اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

اچھی تقریر کرنے سے واقعی مہنگائی ختم نہیں ہوتی،شاید نیویارک ایئرپورٹ پر شاہد خاقان عباسی کے کپڑے اتروانے سے آٹا سستا ہو گیا تھا،فیاض الحسن چوہان نے کھری کھری سنادیں

datetime 1  اکتوبر‬‮  2019 |

لاہور (آن لائن) اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں شرکت کے اعلان اور پریس کانفرنس کے جواب میں صوبائی وزیرِ کالونیز فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ آل پاکستان لوٹ مار ایسوسی ایشن کا یہ کہنا کہ اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی میں اچھی تقریر کرنے سے ملک میں مہنگائی ختم نہیں ہو گئی،بالکل ٹھیک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھی تقریر کرنے سے واقعی مہنگائی ختم نہیں ہوتی۔شاید امریکہ کے نیویارک ایئرپورٹ پر شاہد خاقان عباسی کی طرح

جامہ تلاشی دیکر مہنگائی ختم ہوتی ہے، اور شاید شاہد خاقان عباسی کے کپڑے اتروانے سے ملک میں آٹا 25 روپے سستا ہو گیا تھا۔ فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ آل پاکستان لوٹ مار ایسوسی ایشن کو ایسی باتیں کرنے سے پہلے شرم سے ڈوب مرنا چاہئیے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ دورہ امریکہ کے بعد عمران خان کی تعریف سابق بھارتی جج جسٹس کانجو سے لے کر سابق سفارتکار اور بیوروکریٹ بھی کر رہے ہیں۔دشمن ملک بھی اعتراف کر رہا ہے کہ عمران خان نے اقوامِ متحدہ میں میلہ لوٹ لیا۔ صوبائی وزیرِ کالونیز نے کہا کہ آل پاکستان لوٹ مار ایسوسی ایشن کے بیانات قابلِ مذمت ہیں۔ماضی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی خراب معاشی پالیسیوں کی بدولت ملک آج اس حالت تک پہنچا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ اور کشمیر کا مقدمہ کامیابی سے لڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ان تمام پارٹیوں کو آزادی مارچ کی کھلی دعوت ہے۔ فیاض الحسن چوہان نے زور دیتے ہو ئے کہا کہ موچی گیٹ، لاڑکانہ میں بڑے بڑے جلسے کرنے والی پارٹیاں آج اس مقام پر آ پہنچی ہیں کہ انہیں جمعیت علمائے اسلام (ایف) جیسی علاقائی جماعت کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان جلد معاشی استحکام حاصل کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…