اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

پاکستان اور افغانستان کے درمیان بد اعتمادی کی فضاء کیسے ختم ہوگی؟اسفندیارولی خان نے تجویز دیدی،انتباہ جاری

datetime 1  اکتوبر‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے دیرپا قیام امن کیلئے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور خطے کے تمام ممالک اپنے مسائل باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ حل کریں،عالمی یوم عدم تشدد کے حوالے سے اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بد اعتمادی کی فضاء کے خاتمے کیلئے مذاکرات بہترین آپشن ہیں اور افہام و تفہیم سے ہی مسائل حل کئے جا سکتے ہیں،

انہوں نے کہا کہ تشدد سے نفرت اور عدم تشدد سے محبت جنم لیتی ہے، دہشت گردی کیخلاف جنگ ہماری آئندہ نسلوں کی بقاء کی جنگ ہے جسے ہر قیمت پر جیتنا ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔اے این پی باچا خان بابا کے عدم تشدد کے فلسفے پر کاربند جماعت ہے اور ہم ہمیشہ سے جنگوں کے مخالف رہے ہیں، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اقوام عالم کے انسان پوری کائنات میں امن وسکون کی فضاقائم کرنے کے متلاشی ہیں جبکہ انتہاپسندوں اور انتہا پسندانہ سوچ سے دنیا کے امن کو خطرہ ہے۔ غربت،ناانصافی، جہالت، محرومی، جارحیت اور توسیع پسندانہ عزائم امن کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں،سر حد کے دونوں جانب نسلی اور مذہبی امتیاز کے بغیرکارائی کی جائے تو امن کا قیام ممکن ہے۔پاکستان کوگزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی اورانتہاپسندی کا سامنا ہے اور دہشت گردی کی آگ نے جہاں ملک کے امن و سکون کو برباد کیا وہاں معیشت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا نے جس سرزمین پر امن کا درس دیا آج وہی زمین مشکلات سے دوچار ہے کیونکہ اس سرزمین پر بسنے والوں نے باچا خان بابا کے نظریات فراموش کر دیئے ہیں،انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں امن پسند قوتیں اس مخصوص صورتحال کا ادراک کریں ورنہ بے توجہی تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان اپنی پالیسیاں سپر پاورز کی بجائے قومی مفاد میں بنائیں، انہوں نے کہا کہ امن پسند قوتیں بد امنی پھیلانے والی تمام قوتوں کے خلاف متحد ہو کر ان کا محاسبہ کریں، دہشت گردی مائنڈ سیٹ کی جنگ ہے اور خطے میں دیرپا امن کیلئے اس مائنڈ سیٹ کو شکست دینا ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…