منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بابا لاڈلہ کے منحرف کمانڈر لالہ اورنگی نے گرفتاری دے دی

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

کراچی۔۔۔۔لیاری گینگ وار بابا لاڈلہ کے منحرف کمانڈر لالہ اورنگی نے رینجرز حکام کو اورنگی ٹاو ن سے گرفتاری دے دی، یہ بات پولیس ذرائع نے بتائی۔ذرائع نے بتایا کہ فیض محمد بلوچ عرف بابا لاڈلا نے مومن اباد تھانے کی حدود فقیر کالونی پریشان چوک سے گرفتاری دی، ملزم نے گرفتاری دینے سے قبل رینجرز کی اہم افسران سے رابطہ کر کے اپنی جان کی ضمانت چاہی تھی اور یقین دہانی کے بعد اس نے ہفتے کی شب گرفتاری دیدی تاہم رینجرز ترجمان نے لالہ اورنگی کی گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے، واضح رہے فیض محمد بلوچ عرف لالہ اورنگی، نور محمد عرف بابا لاڈلا گروپ کا اہم کمانڈر تھا تاہم اور لیاری پھول پتی لائن میں بابا لاڈلا کے بھائی زاہد لاڈلا کے ساتھ رہائش اختیار کی ہوئی تھی، فیض محمد بلوچ نے 2 شادیاں کیں ہیں اوراس کے 4 بچے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ چند روز قبل لالہ اورنگی نے مبینہ طور پر لیاری کی کم عمر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جس کی شکایت بابا لاڈلا سے کی گئی تھی، بابا لاڈلا نے اپنے ساتھیوں کے ذریعے واقعے کی تصدیق کے بعد لالہ اورنگی کی موت کے احکامات جاری کیے تھے تاہم موت کا پروانہ جاری ہونے کا قبل ازوقت علم ہونے پر وہ گروپ سے منحرف ہوکر عزیر گروپ کے کمانڈر سرور بلوچ کی پناہ میں چلا گیا تھا تاہم دوسرے ہی روز سرور بلوچ بھی رینجرز کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا۔سرور کی ہلاکت کا شبہ اس کے گروپ کے لوگوں نے لالہ اورنگی پر کیا، ان کو شبہ تھا کہ لالہ اورنگی نے رینجرز کو سرور کی موجودگی کی اطلاع دی تھی، سرور کی ہلاکت کے بعد لالہ اورنگی اپنے پرانے گھر اورنگی ٹاؤن فقیر کالونی میں چلا گیا اور اپنے طور پر رینجرز حکام سے اپنی گرفتاری کے لیے رابطے شروع کر دیے تھے۔علاوہ ازیں بلال کالونی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث ملزم گل شیر کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے ایک پستول اور چھینے گئے 6 موبائل فونز برامد کرلیے، شاہ لطیف ٹاون پولیس نے اسنیپ چیکنگ کے دوران فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک ملزم حاجی رحمٰن کو گرفتار کرکے ملزم کے قبضے سے پستول اور 26 چھینے گئے موبائل فون برامد کر لیے، پولیس کے مطابق ملزم کے دو ساتھی اول خان اور نذیر خان موٹر سائیکل سمیت فرار ہو گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…