اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

نمرتا کیس میں اہم پیشرفت: ہائیکورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

datetime 25  ستمبر‬‮  2019 |

کراچی(اے این این ) سندھ ہائیکورٹ نے نمرتا کیس کی عدالتی تحقیقات کی اجازت دے دی۔ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے نمرتا ہلاکت پر جوڈیشل انکوئری کیلئے سیشن جج لاڑکانہ کو خط لکھا تھا جس پر سیشن جج نے سندھ حکومت کی درخواست پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے جوڈیشل انکوائری کی اجازت طلب کی تھی جس کی منظوری دے دی گئی ہے۔

دوسری جانب نمرتا کے والد اور بھائی وشال کی جانب سے اب تک مقدمہ درج نہیں کرایا گیا لیکن کیس میں ایف آئی آر کے اندراج کے لیے اعلی حکام سے مشاورت جاری ہے۔ایس ایس پی نے یقین دہانی کرائی ہیکہ تفتیش شفاف اور غیر جانبدار ہوگی، اس میں کوئی دبا قبول نہیں کیا جائے گا۔ایس ایس پی نے بتایا کہ سینئر پروفیسر اور ہاسٹل کے دونوں روم میٹ سمیت 40 افراد سے پوچھ گچھ مکمل کرلی گئی ہے، نمرتا کے کلاس فیلو مہران ابڑو اور شان علی میمن حراست میں ہیں۔یاد رہے کہ 16 ستمبر کو نمرتا کی لاش کالج ہاسٹل میں ان کے کمرے سے ملی تھی جس پر کہا گیا تھا کہ طالبہ نے خودکشی کی ہے جب کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی موت کی وجہ خودکشی قرار دی گئی ہے۔تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ نمرتا اپنے دوست مہران ابڑو سے شادی کی خواہش مند تھی اور دونوں کے درمیان دوستانہ تعلقات بھی تھے لیکن چند ماہ پہلے مہران ابڑو نے شادی سے انکار کر دیا تھا اور یہ جواز پیش کیا کہ دونوں کے بیچ اسٹیٹس کا ایک بہت بڑا فرق ہے، مذہب تبدیل کرنا بھی ممکن نہیں، مہران ابڑو کے اس انکار کے بعد سے ہی نمرتا شدید ذہنی تنا کا شکار ہوگئی تھی۔نمرتا کے ہاسٹل میں اس کے ساتھ دو روم میٹس بھی رہتی تھیں۔واقعہ کی رات وہ تقریبا 12 سے ایک کے درمیان سوگئی تھی.

صبح 6 بجے کے قریب دونوں سہیلیاں مندر جانے کے بعد اپنی کلاس میں چلی گئیں۔دوپہر 2 بجے جب دونوں لڑکیاں واپس کمرے میں آئیں تو کمرہ اندر سے لاک تھا۔ بارہا دستک کے باوجود دروازہ نہ کھلنے پراندر جھانکا تو لائٹ آن تھی ۔ دونوں پریشان ہوئیں اور وارڈن کی مدد سے دروازے کالاک توڑا گیا تو اندر کا منظر دل ہلادینے والا تھا۔ نمرتا دونوں چارپائیوں کے بیچ پڑی تھی اور اس کے گلے میں دوپٹہ جکڑاہوا تھا۔

دونوں سہیلیوں نے گلے سے دوپٹہ کو آزادکرنیکی بہت کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکیں۔تفتیشی ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں اگر یہ قتل تھا تو دروازہ اندر سے کس طرح بند تھا؟ قاتل نمرتا کو قتل کرنے کے بعد باہرکیسے گیا؟ تفتیشی حلقوں کے مطابق جس کمرے سے نمرتا کی لاش ملی اس کمرے کی چھت کی اونچائی تقریبا 13 سے 14 فٹ تھی جبکہ نمرتا کا قد تقریبا پانچ فٹ کے قریب تھا۔اگر اس نے اپنے بیڈ یا کرسی سے اوپر خود کو لٹکانے کی کوشش کی تو پنکھے تک اس کا دوپٹہ کیسے پہنچا؟

یہ بھی ہوسکتاہے کہ اس نے اپنے دوپٹے کو اونچا اچھال کر پنکھے کے اوپر سے گزارا ہو گا اور پھر اپنے گلے کے گرد لپیٹنے میں کامیاب ہو گئی اور کمرے میں پڑی کرسی کو دھکا دیا اور جھول گئی۔تفتیشی اداروں کے مطابق نمرتا کا وزن تقریبا پچاس کلو کے لگ بھگ تھا ۔50کلو کے وزن سے پنکھے کا ایک پر اوپری سطح سے کچھ متاثر ہوا ہے جو غور سے دیکھنے پر پتا چلتا ہے۔ البتہ نمرتا نیجب کرسی کو دھکا دیا ہوگاتو دوپٹہ پھسل کر پروں کے درمیان آگیا اور وہ نیچے لٹکی اور گرگئی ہوگی جس سے اس کی آنکھ کے قریب آنے والی چوٹ کے نشان واضح ہیں۔

تمام صورتحال پر مزید تحقیقات جاری ہیں تفتیشی حلقوں کے مطابق یہ تمام گھتیاں جلد سلجھا دی جائیں گی۔تفتیشی حلقوں کامحور مہران ابڑو ہے جو نمرتاکی موت کے بعد سیبیحد پریشان ہے ۔ مہران ابڑو نے اپنے فون سیدونوں کے درمیان ہونیوالی تمام چیٹ پہلے ہی ضائع کر دی تھیں۔ مہران ابڑو کو پولیس نے حفاطتی تحویل میں لے لیا ہے۔ تفتیش کرنیوالے کہتے ہیں کہ نمرتا آئی فون استعمال کرتی تھی۔ جدیدماڈل ہونے کی وجہ سے فون ان لاک کئے جانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…