منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

قصور میں سینکڑوں منی سینما گھر اور قحبہ خانے قائم،ہر تیسری گلی میں کمروں اور ہوٹلوں میں کیا ہورہاہے؟چونکا دینے والے انکشافات

datetime 21  ستمبر‬‮  2019 |

لاہور( آن لائن)قصور میں بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی وجوہات سامنے آ گئیں۔ سانحہ چونیاں کے حوالے سے اہم ترین ادارے کی رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر قصور میں ہی ایسے واقعات کیوں ہو رہے ہیں؟۔قومی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ

اس حوالے سے مرتب کی گئی رپورٹ کے مطابق ایسے وااقعات کا اصل سبب وہاں موجود سینکٹروں سینما گھر،قحبہ خانے اور منشیات فروشی کے اڈے ہیں۔لاہور کے قریب ہونے کے باوجود وہاں بچوں کے لیے کام کرنے والا کوئی ادارہ ہے نہ ہی کوئی این جی او اس حوالے سے کام کر رہی ہے۔زینب قتل کیس کے بعد چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے وہاں کام کرنے حوالے سے فیصلہ ہوا تھا مگر اس پر عمل نہ ہو سکا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قصور میں بڑھتے ہوئے واقعات کی وجوہات جاننے کے لیے مختلف افراد سے ملاقاتیں کی گئیں اور پوچھ گچھ کی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ قصور میں پر تیسری گلی میں چائے کے ہوٹل، گھروں کے کمرے اور دکانیں منی سینما گھر بنے ہوئے ہیں۔بچوں اور بڑوں کو اخلاق سے گری ہوئی فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔وہیں ایسی ناساز حرکتیں بھی ہوتی ہیں جو ناقابل بیان ہیں۔گھروں سے مردو خواتین منشیات فروخت کرتے ہیں۔ٹرانسپورٹ اڈوں اور معروف بازاروں کے اطراف قحبہ خانے ہیں۔ویڈیو گیمز اور سنوکر کلبز کی آڑ میں گھناؤنی حرکات ہوتی ہیں،،بچوں سے زیادتی کے ہونے والے واقعات کا صرف 5 فیصد رپورٹ ہوتا ہے۔اس کھیل میں کئی گروہ شامل ہیں۔شکایت کی جائے تو سیاسی مداخلت اور پولیس کا حصہ ملزم کو بچا لیتاہے۔پولیس کی مرضی کے بغیر قصور میں منی سینما گھر چل سکتے ہیں نہ پورن فلمیں بن سکتی ہیں۔پولیس اور سوال خفیہ ادارے جانتے ہوئے بھی کچھ رپورٹ نہیں کرتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…