پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

اسفندیار ولی خان کی افغان صدر اشرف غنی سے خصوصی ملاقات، ”پاکستان دوستی کا ہاتھ صدق دل سے بڑھائے“، اشرف غنی نے پھر شک کا اظہار کردیا

datetime 20  ستمبر‬‮  2019 |

پشاور (این این آئی) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے عالمی امن کانفرنس کے بعدکابل میں افغان صدر اشرف غنی سے خصوصی ملاقات کی ہے، دلگشا محل میں ہونے والی ملاقات میں اسفندیار ولی خان اور اشرف غنی نے خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں جاری دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں نقصان دونوں اطراف بسنے والے پختونوں کا ہو رہا ہے،

اس موقع پر اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا کہ مذاکراتی دور پھر سے شروع ہونا چاہئے لیکن مذاکرات صرف اسی صورت میں تمام افغانوں کیلئے قابل قبول ہونگے، جب یہ مذاکرات افغان حکومت کی سربراہی میں ہوں، انہوں نے کہا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ امن اور صلح کے ذریعے مسائل کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکتا ہے، افغان مسئلے کے حل کیلئے تجویز پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ،چین اور روس ثالث کا کردار ادا کریں اور اس دوران پاکستان اور افغانستان مل بیٹھ کر اپنے مسائل کا حل تلاش کریں، انہوں نے کہا کہ افغان حکومت پاکستان کے ساتھ غلط فہمیوں کے خاتمے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے، اسی طرح حکومت ہاکستان بھی بداعتمادی اور غلط فہمیوں کے خاتمے کیلئے پہلی فرصت میں افغانستان کے ساتھ ٹرین سروس کے ذریعے تجارت کا آغاز کرے اور دونوں ملکوں کے عوام کو آزادانہ سفر کی اجازت دی جائے تاکہ آپس میں دوستانہ تعلقات کا ٹوٹا ہوا سلسلہ بحال کیا جا سکے،انہوں نے افغان صدر کے سامنے مذاکراتی عمل کے حوالے سے اپنا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ حکومت افغانستان کی سربراہی اور ملکیت کے بغیر مذاکرات بے معنی اور بے نتیجہ ہونگے، امن مذاکرات کے حوالے سے افغان صدر اشرف غنی کی کوششیں قابل تحسین ہیں کہ انہوں نے ایک ایسے وقت میں افغان سرزمین پر امن کانفرنس کا انعقاد کیا جس کی ضرورت تھی۔اس موقع پر افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ خطے میں جاری جنگ کی وجہ سے ڈیورنڈ لائن کی دونوں جانب پشتون ہی نقصان اٹھارہے ہیں،

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عوامی اور حکومتی سطح پر جنگ کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششیں کی جائیں،افغان صدر کا کہنا تھا کہ اپنے دورہ پاکستان کے دوران انہوں نے پاکستانی قیادت پر واضح کیا تھا کہ اگر غربت، توانائی بحران اور دیگر مسائل پر قابو پانا ہے تو افغانستان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ صدق دل سے بڑھانا ہوگااور اس سلسلے میں اپنے وعدے پورے کرنے ہوں گے،انہوں نے کہا کہ ڈیورنڈلائن کے پار ادیب،دانشوروں اور محققین کی تحاریر افغانستان میں شائع کی جائیں گی تاکہ افغان عوام بھی اس سے مستفید ہوسکیں اور موجودہ مشکلات کے حل کیلئے مشترکہ طور پر جدوجہد کرنی ہوگی کیونکہ امن ہمارا بڑا مطالبہ اور ترجیح ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…