پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کے باوجودمعیشت بگڑ رہی ہے،ایک سال میں بجلی،گیس، پٹرول اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں کتنا ہوشربا اضافہ ہوا، حیران کن انکشاف

datetime 20  ستمبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ عوام اور کاروباری برادری کی مایوسی ختم کرنے کے لئے مزید معنی خیز اقدامات کی ضرورت ہے۔گزشتہ دو ماہ کے دوران جاری حسابات کا خسارہ کم ہوا ہے جس کے نتیجہ میں زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے مگر یہ ناکافی ہے۔

صنعتی ترقی میں کمی آئی ہے، صنعتی پیداوار اوربڑی صنعتوں کی پیداوار بھی کم ہو رہی ہے،ٹیکسٹائل و جنرل انڈسٹری پریشانی کا شکار ہے۔آٹو موبائل سیکٹرکی پیداوار نصف رہ گئی ہے، زرعی پیداوارکی صورتحال پریشان کن ہے، خدمات کا اہم شعبہ، اسٹاک ایکسچینج، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کابراحال ہے اور دیگر شعبے بھی مسلسل تنزلی کا شکار ہیں۔برآمدات جامد جبکہ قرضے بڑھ رہے ہیں جس سے جی ڈی پی پر اثر پڑ رہا ہے۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ آٹے، چینی، دال اور گھی سمیت مختلف اشیائے ضروریہ کی قیمت میں 123 فیصداضافہ ہوا ہے، گیس کی قیمتوں میں ایک سال میں 143 فیصد، بجلی کی قیمت میں 12فیصد، پٹرول کی قیمت میں 23 فیصد، بے روزگاری میں 5 فیصد، ادویات کی قیمت میں 200 فیصد، صحت کی سہولیات 13 فیصدجبکہ تعلیم 7 فیصد مہنگی ہو گئی ہے جس نے عوام کی کمر توڑدی ہے اور عام خیال یہ ہے کہ صورتحال بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑ رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ اقتصادی حقائق کو چھپانا ناممکن ہے کیونکہ جب لوگ بڑی تعداد میں بے روزگار ہو رہے ہوں، کاروبار ٹھپ پڑے ہوں اور بازار میں بکنے والے اشیاء کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہو تو عوام کو پتہ چل جاتا ہے کہ ریکارڈ وقت میں صورتحال ٹھیک کرنے کے دعوے کرنے والوں نے ملک کا کیا حال کر دیا ہے۔حالات سے تنگ آ کرپنجاب کے چار ضلعوں کے پاور لومز مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے، لاہور میں گاڑیوں کے شو روم مالکان نے گورنر ہاؤس کے گھیراؤ کا اعلان کر دیا ہے،اسپتالوں میں ادویات اور ویکسین کی قلت سے اموات ہو رہی ہیں جس پر شہری سراپا احتجاج ہیں۔انھوں نے کہا کہ عوام کی توقعات تلخ معاشی حقائق کے سامنے ڈھیر ہو گئی ہیں جسکی وجہ سے انکی مایوسی اور اضطراب بڑھتا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…