منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ملک میں سستی بجلی کی پیدوار کیلئے شاندارا قدام اٹھا لیاگیا ، عوام کو بڑی خوشخبری سنا دی گئی ‎

datetime 20  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر مشرق وسطی و وسط ایشیا جہاد آزور نے قابل تجدید توانائی پالیسی تیار کرنے کیلئے پاور ڈویژن کی کوششوں تعریف کی ہے ۔آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر مشرق وسطی و وسط ایشیا جہاد آزور کی سربراہی میں وفد نے وفاقی وزیر پاور عمر ایوب سے ملاقات کی ۔ آئی ایم ایف ڈائریکٹر جہاد آزور نے کہاکہ پاکستان کے پاور سیکٹر کی کار کردگی حوصلہ افزا ہے ۔

آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر نے اہداف کے حصول میں پاور ڈویژن کی کوششوں کو سراہا۔ قابل تجدید توانائی پالیسی تیار کرنے کیلئے بھی آئی ایم ایف نے پاور ڈویژن کی کوششوں تعریف کی ۔آئی ایم ایف نے بجلی کی قیمتوںمیں کمی کیلئے مقامی وسائل سے بجلی پیداواربڑھانے کی پالیسی کو سراہا ۔اعلامیہ کے مطابق وفاقی وزیر نے آئی ایم ایف وفد کو پاور سیکٹر میں تاریخی کامیابیوں سے آگاہ کیا۔ وفد کو پاور سیکٹر کی وصولیوں میں اضافے اور لائن لاسز میں کمی کے بارے میں بتایا گیا ۔ عمر ایوب نے کہاکہ گزشتہ مالی سال کے آخر میں ماہانہ 38ارب روپے بڑھنے والے گردشی قرضے کو 26ارب روپے پر لائے ۔ انہوںنے کہاکہ رواں مالی سال جولائی میں گردشی قرضے کو مزید کم کر کے 18ارب روپے پر لے آئے ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ بجلی چوروں کے خلاف مہم کے مثبت نتائج مل رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے آئی ایم ایف وفد کو پاور سسٹم کی بہتری کیلئے کئے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا ۔اعلامیہ کے مطابق وفاقی وزیر نے کہاکہ کنڈے کے زریعے بجلی چوری والے علاقوں میں اے بی سی کیبل لگائی جارہی ہے ۔عمر ایوب نے کہاکہ جن علاقوں میں میٹر کے زریعے چوری ہوتی ہے وہاں اے ایم آئی میٹر لگائے جارہے ہیں ۔وفاقی وزیر پاور نے کہاکہ ملک میں 80فیصد فیڈرز لوڈ مینجمنٹ سے آزاد ہیں ۔انہوںنے کہاکہ اب ہم ڈسٹری بیوشن سسٹم کی بہتری پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں مقامی وسائل سے سستی بجلی پیداوار بڑھانے کیلئے نئی قابل تجدید توانائی پالیسی لا رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مقامی وسائل سے بجلی پیداوار 75فیصد تک لانا چاہتے ہیں ،بجلی پیداوار میں درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرینگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…