اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستانی نجی کمپنی اور امریکی کمپنی ایگزون میں ایل این جی درآمد کا معاہدہ طے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پرائیویٹ طور پر گیس درآمد کی جائے گی

datetime 18  ستمبر‬‮  2019 |

ہیوسٹن، ٹیکساس(این این آئی)دنیا میں آئل اینڈ گیس کی سب سے بڑی امریکن کمپنی ایگزون موبل کے ساتھ پاکستانی کمپنی یونیورسل گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی (یو جی ڈی سی) نے پاکستان میں پرائیویٹ گیس سپلائی کا معاہدہ کر لیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پرائیویٹ ایل این جی درآمد کرنا ممکن ہو گئی ہے اور رواں سال اکتوبر نومبر میں پہلے پرائیویٹ ایل این جی کارگو کی آمد متوقع ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں پاکستان کی پہلی پرائیویٹ گیس مارکیٹنگ لائسنس یافتہ

کمپنی یونیورسل گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی یو جی ڈی سی اور ایگزون موبل کے درمیان تاریخ ساز معاہدے پر دستخط ہوئے۔ پاکستان کی جانب سے یو جی ڈی سی کی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر غیاث عبداللہ پراچہ جبکہ ایگزون موبل کی جانب سے وائس پریزیڈنٹ رچرڈ ریفیلڈ نے دستخط کئے۔ اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر، ایگزون موبل کے چیئرمین ایل این جی ایلکس واکوو، پریزیڈنٹ ارتضا سید، کنٹری مینیجر پاکستان شاہ رخ مرزا اور وزارت پٹرولیم کے اعلی افسران اور یو جی ڈی سی کے وفد کے ممبران موجود تھے۔اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیر پٹرولیم ندیم بابر نے کہا کہ یہ بہت تاریخی دن ہے کہ ایگزن موبل بیس سال بعد پاکستان میں بڑی انویسٹمنٹ سے پریکٹیکل بزنس شروع کر رہی ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان کیلئے بہت خوش آئند اور اعزاز کی بات ہے۔ وزیر اعظم کے وژن ایز آف ڈوئنگ بزنس کہ بزنس کرنا آسان بنانا ہے کے تحت ہم نے رکاوٹیں دور کر کے پرائیویٹ سیکٹر کومضبوط بنانا ہے ہم پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں تاکہ پرائیویٹ سیکٹر آگے کام کرے۔ گورنمنٹ گیس کی امپورٹ اور گیس کے کام سے نکلنا چاہتی ہے اس سلسلے میں یہ پہلا قدم ہے۔ ایگزون موبل کے آنے سے پاکستان میں نئی کمپنیاں سرمایہ کاری کریں گی جس سے ملک میں، روزگار میں اضافہ ہوگا اور ملک میں کم قیمت پر گیس کی دستیابی ممکن ہوگی اور ملک میں پہلی پرائیویٹ سپلائی لائسنس والی کمپنی سی این جی سیکٹر کی گیس سپلائی کو ریگولر کر کے متوسط طبقے کیلئے

حصول آسان بنائے گی اور اس کے فروغ سے شہروں میں آلودگی میں کمی آئے گی۔ اس موقع پر ایگزون موبل کے چیئرمین ایلکس واکوو اور پریزیڈنٹ ارتضا سید نے کہا کہ ہم بیس سال بعد پاکستان میں اس وژن کے ساتھ سرمایہ کاری کر رہے ہیں کہ پاکستان میں ماحول دوست گیس کم قیمت پر دستیاب ہو، ریگولر سپلائی کے ذریعے شارٹیج دور ہو، ہم یو جی ڈی سی کو سپورٹ کریں گے تاکہ گیس سیکٹر میں زیادہ سے زیادہ سیلز کر کے گیس کی کمی دور کر سکے۔ غیاث پراچہ نے اس موقع پر کہا کہ

حکومت نے تھرڈ پارٹی رولز کے تحت پرائیویٹ گیس سپلائی کی اجازت دی ہے جس کے تحت ہم ٹرمینلز کی اضافی گیس مارکیٹ کر سکیں گے اور مزید نئے آنے والے پانچ ٹرمینلزسے گیس خرید کر بیچ سکیں گے جس سے سی این جی سیکٹرکو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں مدد ملے گی۔ پٹرول اور سی این جی کی قیمت کا فرق بڑھ جائے گا، کرائے کم ہوں گے۔ تقریبا ایک بلین یو ایس ڈالر سالانہ فارن ایکسچینج کی بچت ہوگی، بیس لاکھ گاڑیاں سی این جی پر منتقل ہوسکیں گی۔ اورسی این جی کٹس اور سلنڈرز کی امپورٹ کی مد میں ملین آف ڈالرز کی فارن انویسٹمنٹ آئے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…