واشنگٹن۔۔۔۔۔امریکی صدر براک اوباما نے دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں امریکی مغوی عبدالرحمان کیسگ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے’خالص شیطانی کارروائی‘ قرار دیا ہے۔ادھر مقتول کے والدین نے کہا ہے کہ ان کا بیٹا ’شامی عوام کے لیے اپنی محبت کی وجہ سے مارا گیا۔‘اوباما نے مقتول عبدالرحمان المعروف پیٹر کیسگ کے اہلِ خانہ سے تعزیت بھی کی ہے۔اس سے قبل انٹرنیٹ پر جاری ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے اپنے زیرِ قبضہ مغوی امریکی امدادی کارکن کیسگ کو قتل کر دیا ہے۔عبدالرحمان کیسگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اْس کا نام اسلام لانے سے پہلے پیٹر کیسگ تھا اور انھیں شام میں گذشتہ سال اغوا کیا گیا تھا۔اس ویڈیو میں ایک نقاب پوش شخص کو خنجر لہراتے اور امریکی فوجیوں کو بھی اسی انجام کی دھمکی دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ ویڈیو میں مبینہ طور پر شامی فوجیوں کے ایک گروپ کے سر قلم ہوتے بھی دکھائے گئے ہیں۔براک اوباما نے جی 20 اجلاس سے واپسی پر اپنے بیان میں کہا کہ بطور امدادی کارکن کیسگ کی خدمات قابلِ تعریف تھیں اور ’انھیں ہم سے دور کر دینا ایک دہشت گرد گروپ کی جانب سے مکمل شیطانی عمل ہے جسے دنیا غیرانسانی قرار دے گی۔‘عبدالرحمان کیسگ کے والدین ایڈ اور پاؤلا کیسگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اپنے بیٹے کی موت سے ان کے دل ٹوٹ گئے ہیں۔کیسگ کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا مسلمان ہو گیا ہے اور انھوں نے اغواکاروں سے اس کی رہائی کی اپیل کی ہے۔ایڈ اور ان کی اہلیہ نے کہا کہ انھیں اپنے بیٹے پر فخر ہے جو اپنی زندگی انسانیت کو دے گیا اور وہ ’اس کی یاد اور ورثے کو زندہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔‘پیٹر کیسگ کے ایک ساتھی قیدی نے پیٹر کے نام کی تبدیلی کے بارے میں بتایا تھا کہ اور وہ اب ’عبدالرحمٰن کیسگ‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔پیٹر کیسگ کے ساتھ قید میں رکھے جانے والے ایک قیدی کا کہنا ہے کہ وہ 26 سالہ عبدالرحمٰن کیسگ کو ان دنوں سے جانتے ہیں جب وہ پہلی مرتبہ شام اور ترکی کی درمیانی سرحد پر ملے تھے اور دونوں نے امدادی کام کا آغاز کیا تھا۔
عبدالرحمان قید سے اپنیگھر والوں تک ایک خط پہنچانے میں کامیاب ہوئے جس میں ان کا کہنا تھا: ’جہاں تک میرے ایمان کا تعلق ہے، تو میں ہر روز نماز پڑھتا ہوں اور اس لحاظ سے میں اپنی قید سے پریشان نہیں ہوں۔اگرچہ عقیدے کے لحاظ سے آج کل مجھے تھوڑی پیچیدہ صورتِ حال کا سامنا ہے، لیکن میں اپنے عقیدے سے مطمئن ہوں۔‘عبدالرحمٰن کے والدین اپنے بیٹے کے ان الفاظ سے یہی مطلب لیتے ہیں کہ وہ مسلمان ہو چکا ہے۔رواں سال اکتوبر میں دولت اسلامیہ نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں برطانوی رضاکار ایلن ہیننگ کے قتل کو دکھایا گیا تھا اور اس ویڈیو کا اختتام کیسگ کی موت کی دھمکی پر ہوا تھا۔دولتِ اسلامیہ اب تک کیسگ کے علاوہ چار مغربی باشندوں کو ہلاک کر چکی ہے جن میں دو برطانوی ایلن ہیننگ اور ڈیوڈ ہینز جبکہ دو امریکی صحافی جیمز فولی اور سٹیون سوتلوف شامل ہیں۔
اوباما دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں امریکی مغوی عبدالرحمان کیسگ کی ہلاکت پر برہم
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اسکولوں میں چھٹی کا اعلان کردیا گیا
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)
-
طلبہ کےلئے خوشخبری،ہفتہ وار دو چھٹیوں کا اعلان
-
کراچی؛ فلیٹ سے ڈاکٹر، اسکی بیوی اور 3 بچوں کی لاشیں برآمد، ابتدائی تفتیش میں اہم انکشاف
-
حکومت کی ایک سال کے لیے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کی تجویز
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا اعلان
-
بھارت کے امیر ترین کھلاڑی ویرات کوہلی کی مالیاتی سلطنت کی تفصیلات سامنے آ گئیں
-
عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہو گیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان
-
شہریوں کیلئے بڑی سہولت، پاسپورٹ بنوانا مزید آسان
-
مردہ بچیوں کو قبر سے نکال کر زیادتی کرنیوالا ملزم گرفتار، خوفناک انکشافات
-
زلزلے کے جھٹکے،شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا
-
خلیجی ملک کی شہریت منسوخ، سیکڑوں لوگ اب کس ملک کی شہریت لے رہےہیں؟
-
گھی اور کوکنگ آئل کی کم از کم ریٹیل قیمتیں مقرر کردی گئیں
-
دنیا بھر میں ایرانی ایئرلائنز کی سروس بند، نہ ٹکٹ نہ لینڈنگ کی اجازت ہوگی



















































