جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

امریکا اپنے فوجیوں کی خیر چاہتا ہے تو معاہدہ کر لے، افغان طالبان کی سخت وارننگ

datetime 13  ستمبر‬‮  2019 |

دوحا(سی پی پی)افغان طالبان نے کہا ہے اگر امریکا چاہتا ہے کہ ان کے فوجیوں پر حملے نہ ہوں تو وہ ہم سے معاہدہ کر لے۔امریکا اور افغان طالبان کے درمیان 18 سالہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے گزشتہ برس اکتوبر میں مذاکرات شروع ہوئے تھے اور رواں ماہ تک دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کے 9 دور ہوئے۔

تاہم چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کابل میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کو وجہ بنا کر طالبان سے کئی ماہ سے چلنے والے مذاکرات ختم کر دیئے تھے۔طالبان نے امریکی صدر کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاہدے کی منسوخی سے امریکا کو ہی زیادہ نقصان ہو گا۔دوحا میں طالبان دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے لیے بہت حیران کن تھا کیونکہ امریکا کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ معاہدہ ہو چکا تھا۔سہیل شاہین نے کہا ہے کہ افغانستان میں فائر بندی کبھی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں رہے تاہم افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر بات کی گئی لیکن وہ بھی اس صورت میں کہ جب افغانستان سے غیر ملکی فوجیں مکمل طور پر نکل جائیں۔طالبان ترجمان نے کہا کہ دوسرے افغانوں کی طرح ہم بھی امریکا کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، اگر ان کے ساتھ فائر بندی کا معاہدہ ہو جاتا ہے تو ان پر حملے نہیں ہوں گے لیکن یہ افغانستان کے معاملے کا ایک دوسرا ایشو ہے، ہم پہلے افغانستان سے غیر ملکی فورسز کا انخلا چاہتے ہیں۔سہیل شاہین نے بتایا کہ معاہدے کی صورت میں طالبان کی جانب سے امریکا کو افغانستان سے فوجوں کے انخلا کے لیے محفوظ راستہ دینے کا نکتہ بھی شامل تھا لیکن یہ چیز معاہدہ طے پا جانے کی صورت میں تھی۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم امریکا کے ساتھ معاہدہ کرتے ہیں تو یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان پر حملے نہ کریں اور انہیں محفوظ راستہ فراہم کریں، اور اگر وہ معاہدے کے بغیر جاتے ہیں تو یہ ہماری صوابدید ہے کہ ہم ان پر حملہ کرتے ہیں یا انہیں جانے دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا چاہتا ہے کہ ہم ان پر حملے نہ کریں تو وہ ہمار ے ساتھ معاہدہ کر لے، ہم ان پر حملے نہیں کریں گے لیکن اگر وہ اپنی بربریت جاری رکھتا ہے، رات کے آپریشن جاری رکھتا ہے تو ہم بھی وہی انداز اپنائیں گے جو گزشتہ 18 سال سے جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…