پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

صلاح الدین کے والد کی بیٹے کی قبر کشائی کروانے کا مطالبہ مقتول کے والد نے وزیراعلی کے سامنے کونسے آٹھ مطالبات رکھ دئیے

datetime 7  ستمبر‬‮  2019 |

لاہور( آن لائن )وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے پولیس کے تشدد سے جاں بحق ہونے والے صلاح الدین اور اہل خانی کی ملاقات ہوئی ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ملاقات میں وزیر قانون راجہ بشارت،آجی جی پنجاب عارف نواز اور وکیل صلاح الدین حسان نیازی سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔اس دوران صلاح الدین کے والد محمد افضال نے وزیراعلی کے سامنے آٹھ مطالبات رکھ دئیے۔

محمد افضال کا کہنا ہے کہ محکمہ پولیس میں ریفارمز ناگریز ہیں وہ صلاح الدین جیسے تمام معصوم اور بے گناہوں کو بچانا چاہتے ہیں.انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صلاح الدین کی قبر کشائی کی جائے تاکہ دوبارہ پوسٹ مارٹم کر کے حقائق سامنے لائے جائیں۔اس کیعلاوہ انہوں نے اپنے بیٹے کے قتل میں ملوث ایس پی حبیب کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔وزیراعلی پنجاب نے صلاح الدین کے والد کو شفاف عدالتی تحقیقات کروانے کی یقین دہانی کروائی۔یاد رہے کہ فیصل آباد کے ایک اے ٹی ایم میں مشین توڑ کر رقم نکالنے والے شہری صلاح الدین کو رحیم یار خان پولیس نے گرفتار کیا جس کے چند گھنٹے بعد ہی پولیس حراست میں صلاح الدین کی ہلاکت کی خبر آ گئی تھی۔ دوسری جانب صلاح الدین کی موت کے بدلے انصاف حاصل کرنے اور صلاح الدین کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کے لیے ٹویٹر صارفین میدان میں آ گئے ہیں۔صارفین نے ٹویٹر پر نہ صرف صلاح الدین کے حق میں ٹرینڈ متعارف کروایا بلکہ اے ٹی ایمز میں جا کر صلاح الدین کی ہی طرح کیمروں کو منہ بھی چڑانے لگے۔ اس ٹرینڈ کا آغاز سب سے پہلے ٹویٹر پر متحرک رہنے والے سماجی کارکن فرحان ورک نے کیا ۔ انہوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں منہ چڑانے کی تصویر اپ لوڈ کی اور کہا کہ میں بھی صلاح الدین ہوں۔ آج میں نے بھی اے ٹی ایم کے سامنے منہ بنایا ہے۔انشااللہ پورا پاکستان اب پولیس ریفارمز کے عمل نفاذ نہ ہونے تک صلاح الدین بنے گا۔ اگر اس نظام کا منہ چڑانا جرم ہے تو مجھے بھی گرفتار کر ل.خیال رہے صلاح الدین قتل کیس میں وزیراعلی پنجاب نے ڈی پی اور رحیم یار خان کو معطل کر کے او ایس ڈی بنا دیا تھا، ڈی پی او عمر فاروق سلامت کی جگہ ایڈیشنل ڈی پی او کا چارج ایس پی انویسٹی گیشن حبیب اللہ خان کو دے دیا گیا ۔ وزیراعلی عثمان بزدار نے تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم بھی دیا،جوڈیشل کمیشن کے قیام کیلئے چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ کو درخواست بھیج دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…