پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

قانون کے رکھوالے کام آئے نہ علاقے کے منتخب نمائندوں نے ساتھ دیا مغوی بیٹی کی بازیابی لیے آنے والا مظلوم باپ نے احاطہ عدالت میں ہی دم توڑ دیا

datetime 6  ستمبر‬‮  2019 |

کراچی ( آن لائن ) قانون کے رکھوالے کام آئے نہ علاقے کے منتخب نمائندوں نے ساتھ دیا ۔ مغوی بیٹی کی بازیابی کے لئے سجاول سے کراچی آنے والے مظلوم باپ نے احاطہ عدالت میں ہی دم توڑ دیا ۔غریب خاندان کے پاس میت لے جانے تک کے پیسے نہ تھے۔ ایسے میں

مقامی پولیس اہلکار اور چوک پر کھڑے لوگوں نے مدد کے لئے چندہ جمع کرنا شروع کردیا۔انسانی حقوق کے چیمپئن تو سب ہی بنتے ہیں لیکن مظلوم پکارے تو کوئی اس کی مدد کو نہیں آتا۔ایک سال پہلے اغوا ہونے والی بیٹی کی بازیابی کے لئے بھاگ دوڑ کرنے والے باپ نے آج کراچی میں سندھ ہائیکورٹ کے کے احاطہ میں ہی دم توڑ دیا۔سجاول کے رہائشی محمد جمعہ کی بیٹی کو ایک سال قبل اغوا کرلیا گیا تھا۔باپ در، در بھٹکتا رہا ۔ علاقہ پولیس نے کوئی تعاون کیا نہ منتخب ارکان اسمبلی کام آئے۔غربت کے مارے محمد جمعہ نے مایوس ہوکر سندھ ہائی کور ٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ اور دیگر اہلخانہ سندھ ہائی کورٹ میں پیشی کے لئے آج کراچی آئے تھے ۔محمد جمعہ کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ لڑکی کو اغوا کرنے والا کچھ عرصہ بعد جھگڑا کے دوران مارا گیا تھاجس کے بعد لڑکی کا نکاح کسی اور سے کردیا گیا۔آج عدالت میں بیٹی کو دیکھا تو محمد جمعہ کو دل کا دورہ پڑ گیا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ غریب خاندان کے پاس لاش سجاول لے جانے کے لئے پیسے تک نہیں تھے ۔ ایمبولینس نہ ہونے پر محمد جمعہ کی لاش سوزوکی میں رکھ دی گئی۔غریب خاندان مدد کا منتظر نظر آیا تو ہائی کورٹ کے باہر ٹریفک کنٹرول کرنے والی خاتون راہ گیروں سے پیسہ جمع کرکے متاثرہ خاندان کو دینے لگی۔یوں بدقسمت خاندان محمد جمعہ کی میت اپنے آبائی علاقے مین لے جانے کے لئے کامیاب ہوسکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…