پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

حکومت کی جانب سے 228 ارب روپے کے قرضے معاف کئے جانے کا انکشاف،جن کے قرضے معاف کئے گئے وہ لوگ کون ہیں؟سٹیٹ بینک سے رپورٹ طلب

datetime 1  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے 228 ارب روپے کے قرضے معاف کرنے کی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے قرضہ معافی پر ایف آئی اے اور گورنر سٹیٹ بنک سے دو ہفتوں کے اندر رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ایک بیان میں رحمن ملک نے کہاکہ ایف آئی اے و سٹیٹ بنک بتائے کہ کون کونسے لوگوں کے قرضے معاف کئے گئے۔ انہوں نے کہاکہ جن لوگوں کے قرضے معاف کئے گئے ہیں انکی لسٹ کمیٹی کو فراہم کی جائے؟۔انہوں نے کہاکہ بہت سے نادہندگان کیخلاف ایف آئی اے میں کیس چل رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جن

نادہندگان کیخلاف ایف آئی اے تفتیش کر رہی ہے کیا انکے قرضے بھی معاف کئے گئے؟۔انہوں نے کہاکہ بتایا جائے کہ کس قانون اور معاہدے کے تحت حکومت نے قرضے معاف کئے؟۔انہوں نے کہاکہ قرضہ بنک اور موکل کے درمیان کا معاملہ ہے پھر کیسے حکومت معاف کر سکتا ہے؟۔انہوں نے کہاکہ ان قرضوں کے مد میں جو سیکورٹی جمع کی گئی تھی اسکا کیا فیصلہ کیا گیا ہے؟۔انہوں نے کہاکہ کیا 228 ارب روپے قرضہ ہے یا بمعہ سود واجب الادا رقم ہے؟۔انہوں نے کہاکہ خیران کن بات ہے کہ حکومت کو واجب الادا 228 ارب روپے کے قرضے معاف کرائے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…