منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بجٹ خسارے میں خطرناک اضا فہ ،آمدنی اور اخراجات میں فرق کم کیا جائے،میاں زاہد حسین

datetime 30  اگست‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ معاشی سرگرمیاں جمود کا شکار ہو رہی ہیں ،صنعتیں بند ہو رہی ہیں۔

بے روزگاری بڑھ رہی ہے، GDPسکڑ کر 5.8فیصد سے 2.7فیصد پر آگئی ہیجسمیں مزید کمی کا امکان ہے جبکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس لئے شرح سود کو فوری طور پر کم کیا جائے جبکہ برآمدی شعبہ اور ایس ایم ای سیکٹر میں جان ڈالنے کے لئے اقدامات اورمراعات کا اعلان کیا جائے۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ مشکلات میں پھنسی ہوئی کاروباری برادری کو وزیر اعظم عمران خان اور اسٹیٹ بینک کے گورنر کے مابین ملاقات سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں اورانھیں یقین ہے کہ جلد ہی ریلیف کا اعلان کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ حکومت کی کوششوں کے باوجود معیشت میں وہ بہتری نہیں آئی ہے جس کی توقع کی جا رہی تھی اس لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات ضروی ہو گئے ہیں۔ٹیکس وصولی میں اضافہ نہیں ہوسکا ۔حکومتی آمدنی اور اخراجات میں فرق کم کیا جائے ۔درآمد اور برآمد میں تفاوت کا نوٹس لیا جائے کیونکہ یہ معیشت کے لئے خطرناک ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ دس سال میں پہلی بار بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 3.6فیصد کمی آئی ہے جبکہ گردشی قرضہ جو ایک کھرب سے زیادہ ہے میں کمی کے لئے کوئی اقدامات سامنے نہیں آئے جو انتہائی تشویشناک ہے۔انھوں نے کہا کہ مالی سال 2018-19 میں بجٹ خسارہ 34 کھرب 44 ارب روپے سے زیادہ رہا ہے ۔یہ خسارہ جی ڈی پی کا 8.9 فیصد ہے جو گزشتہ اٹھائیس سال میںبلند ترین ہے جبکہ 2017-18 کا بجٹ خسار22 کھرب 21 ارب روپے تھا جو جی ڈی پی کا 6.6 فیصد تھا۔حکومت دعوںکے باوجود اخراجات کم نہیں کر سکی ہے اوربجٹ خسارے میں کمی کے ہدف میں ڈیڑھ کھرب روپے کا فرق آیا ہے۔ترقیاتی اخراجات میں تقریباً4کھرب کی کمی اور ٹیکس اقدامات کے باوجود کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی ہے اس لئے کاروباری برادری کے تحفظات دور کئے جائیں اور انھیں سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…