جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

وفاقی وزیر قانون کا چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے ملاقات کا اعتراف کسی جج کو واٹس ایپ بھیجا یا نہیں ؟فروغ نسیم نے خود ہی اہم انکشافات کر دئیے

datetime 29  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیربرائے قانون و انصاف فروغ نسیم نے کہا ہے کہ ان کی وزارت نے کسی جج کو واٹس ایپ پیغام نہیں بھیجا، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے ملاقات ہوئی ہے اس کا جج سے تبادلے کا کوئی تعلق نہیں ، اپوزیشن نیب قوانین میں ترمیم چاہتی ہے ، حکومت نیب کے ہاتھ پائوں نہیں باندھنا چاہتی ۔

نیب بڑی کرپشن روکنے کیلئے بنا تھا ، بد قسمتی سے اس کا غلط استعمال بھی ہوا ہے ،جسمانی ریمانڈ کو 90 دن سے کم کر کے 45 دن کرنے پر غور کیا جارہا ہے،پاکستان بہتری کی جانب جا رہا ہے، چیف جسٹس پاکستان کسی سے ہدایت نہیں لیتے اور ہمیشہ درست فیصلہ کرتے ہیں۔ ایک انٹرویو میں وزیر قانون نے چند روز قبل چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے ہونے والی ملاقات کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا جج کے تبادلے سے کوئی تعلق نہیں۔فروغ نسیم نے کہا کہ یہ خبر من گھڑت ہے کہ وزارت قانون انصاف واٹس ایپ پر جج تبدیل کرواتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا اگر تبادلے کا نوٹیفکیشن 26 اگست کو جاری ہوا تو جج صاحب 28 اگست تک اس عدالت میں کیا کر رہے تھے۔نیب قوانین میں ترمیم کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ماضی میں ان کا غلط استعمال ہوتا رہا ہے اور ان اس میں بہتری کے لیے حکومت سنجیدہ ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن بہت ساری تبدیلیاں چاہتی ہے لیکن حکومت چاہتی ہے نیب کے ہاتھ پاؤں نہ باندھے جائیں۔ نیب بڑی کرپشن کو روکنے کے لیے بنا تھا لیکن بد قسمتی سے اس کا غلط استعمال بھی ہوا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نیب قوانین کا غلط استعمال روکنے میں دلچسپی رکھتی ہے اور وزیراعظم کی خواہش ہے کہ اس میں بہتری لائی جائے۔

انہوں نے کہاکہ قومی احتساب بیورو میں اختیارات کا غلط استعمال بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور بیوروکریٹ فائلوں پر دستخط کرتے ڈرتے ہیں۔وفاقی وزیرنے کہا کہ جسمانی ریمانڈ کو 90 دن سے کم کر کے 45 دن کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 20 سال پہلے اور آج کی عدلیہ میں فرق ہے اور پاکستان بہتری کی جانب جا رہا ہے، چیف جسٹس پاکستان کسی سے ہدایت نہیں لیتے اور ہمیشہ درست فیصلہ کرتے ہیں۔حافظ سعید کے معاملے پر فروغ نسیم نے کہا کہ وفاقی حکومت قانون کے یکساں اطلاق پر یقین رکھتی ہے اور کسی کو رعایت نہیں دے گی۔

جو تنظیم بھی جرم میں ملوث ہے اس کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایف اے ٹی ایف کے سوال پر فروغ نسیم نے کہا پاکستان پوری کوشش کر رہا ہے کہ دنیا کے ساتھ مل کر چلے اور ہماری وزارت نے ایف اے ٹی ایف کے تمام مطالبات پورے کیے ہیں۔منی لانڈرنگ کے سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم بذات خود اس کے خاتمے میں دلچسپی لے رہے ہیں اور اسے ہر صورت روکا جائے گا۔وزیرقانون نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 213 اور 218 کے تحت چیف الیکشن کمیشن کی تعیناتی کی منظوری صدر دیتا ہے لیکن انتخاب حکومت اور اپوزیشن مل کر کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے 18 ترمیم بنائی انہوں نے ڈیڈلاک کی صورت میں کوئی راستہ نہیں نکالا۔فروغ نسیم نے کہا کہ قانون کے جو مراحل تھے حکومت نے وہ طے کر لیے ہیں اور اب عدالت جو فیصلہ کرے گی اس کو تسلیم کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…