اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

چیف سلیکٹر اور کوچ ایک ہونا چاہیے، مجھے کوچ بنایاجارہاہے کہ نہیں؟ مصباح الحق کا حیرت انگیز موقف سامنے آگیا

datetime 21  اگست‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور فٹنس کیمپ کے کمانڈنٹ مصباح الحق نے کہا ہے کہ میں نے ابھی کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کیلئے درخواست نہیں دی ابھی تک افواہیں چل رہی ہیں،لیول ٹوکورس کررکھا ہے،ہیڈ کوچ کا امیدوار بنا تو کرکٹ کمیٹی چھوڑدوں گا، چیف سلیکٹر اور کوچ ایک ہونا چاہیے، اس میں ذمہ داری کا بوجھ ضرور بڑھے گا لیکن معاملات پر نظر رکھنے میں آسانی ہوگی۔قذافی اسٹیڈیم لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصباح الحق نے کہا کہ

کوچنگ سے متعلق صرف افواہیں چل رہی ہیں، ابھی میں نے پاکستان ٹیم کی کوچنگ کیلئے درخواست ہی نہیں دی کیونکہ میری تمام تر توجہ کیمپ پر ہے۔ انہوں کہا کہ صوبائی ٹیموں کے لئے پول گزشتہ کارکردگی کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا،کوشش کریں گے کہ 3رکنی کمیٹی فہرست پر نظرثانی کرتے ہوئے میرٹ پر فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ کوچنگ اورسلیکشن کمیٹی میں سے کسی ایک کومنتخب کرنا پڑا تواس کے لئے استخارہ کروں گا۔لاہور میں جاری پری سیزن کیمپ میں کئی کھلاڑیوں کو نظر انداز کرنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ فی الحال سب سے زیادہ توجہ سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کرکٹرز پر دی گئی ہے،چند مزید پرفارمرز کو بھی موقع دیا گیا ہے، باقی ہائی پرفارمنس کیمپ میں بھی ٹریننگ کے لئے موجود ہوں گے،ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی دکھانے والے کرکٹرز کی کارکردگی پر آئندہ سلیکشن کمیٹی نظر رکھے گی۔مصباح الحق کا کہنا تھا کہ قومی کرکٹرز کی فٹنس میں بہتری ضرور آئی ہے لیکن ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔رمیض راجہ کی طرف دفاعی اپروچ کی وجہ سے ہیڈ کوچ کے لئے غیر موزوں ہونے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہر شخص کی اپنی رائے ہے، لوگ تنقید کرتے ہیں لیکن اپنا کام جاری رکھوں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…