منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

میئر کراچی کا شہریوں کو سندھ حکومت کو ٹیکس ادا نہ کرنیکا مشورہ ،بیان ناشتہ نہ کرنے کا نتیجہ ہے ،صوبائی وزیرکا وسیم اختر کو جواب

datetime 20  اگست‬‮  2019 |

کراچی:(اے این این ) کراچی کے میئر وسیم اختر نے کراچی کے شہریوں سے سندھ حکومت کو ٹیکس ادا نہ کرنے کا مشورہ دے دیا۔شہر کی بدترین حالت پر ناراض میئر نے صفائی کے نام پر خرچ 24 ارب کا حساب مانگ لیا۔

وسیم اختر نے کہا کراچی کے شہری موٹر وہیکل ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس، ٹاور ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسز کی مد میں سندھ حکومت کو ساڑھے تین سو ارب روپے سے زائد ادا کرتے ہیں، ہمارے پاس مشینری تک نہیں۔میئر کراچی نے ضلع کورنگی میں صفائی مہم کا افتتاح کیا اور کہا شہر کی صفائی کا یہ مستقل حل نہیں، وفاقی حکومت اور بحریہ ٹاون سے تعاون مانگا، ہمارے پاس مشینری تک نہیں، جتنی مشکل میں عوام ہیں، اتنی مشکل میں ہم بھی ہیں۔وسیم اختر کی آمد سے قبل علاقہ مکین مشتعل ہوگئے اور کہا سالوں سے کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اب ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔ گاڑیوں کو کچرا اٹھانے سے روکا تو رینجرز اہلکاروں نے حالات پر قابو پایا۔ادھر وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کہا ہے کہ وسیم اختر کا بیان ناشتہ نہ کرنے کا نتیجہ ہے، متحدہ رہنما کے پاس جانے کو تیار ہیں، سعیدغنی کو کام نہ کرنے کی وجہ سے ہٹانے کا تاثر غلط ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جتنے مسائل ہیں ان کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی، سندھ حکومت کیخلاف میئر کراچی نے سیاسی بیان دیا ہے، میئر کراچی نے ناشتہ نہیں کیا ہوا اس لئے وہ ایسا بیان دے رہے ہیں، ایک دوسرے کیخلاف بیان دینے کے بجائے شہر کیلئے کام کریں، نالوں کی صفائی کیلئے ہر سال 55 کروڑ روپے دیئے جاتے ہیں۔

چاہتا ہوں میئر کراچی وسیم اختر ہمارے ساتھ ملکر کام کریں۔مرتضی وہاب کا کہنا تھا آپ پاکستان کی تاریخ سے سب سے ناکام میئر ہیں، اپنے ذاتی مفادات کی خاطر آپ بار بار سندھ حکومت پر الزامات لگاتے ہیں، آپ نے کے الیکٹرک بلوں کی ادائیگی کرنی ہوتی ہے تو آپ کے پاس پیسے نہیں ہوتے وہ سندھ حکومت ادا کرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…