جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

خونخوار شیرنی جس کےلئے فوج بلوانی پڑ گئی

datetime 7  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) جنگلی درندے انسان کے لئے ہمیشہ سے ہی بڑا خطرہ رہے ہیں لیکن نیپال اور بھارت میں تباہی مچانے والی ایک شیرنی نے انسانوں کی اتنی بڑی تعداد کو ہلاک کیا کہ اس کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں شامل ہوگیا۔”چمپا وات کی شیرنی“ نے 19 ویں صدی کے اواخر میں ہمالیہ کے پہاڑوں میں نیپال کے قریبی علاقوں میں حملوں کا آغاز کیا۔ جنگلوں میں سفر کرنے والے درجنوں دیہاتیوں کو اس نے چیر پھاڑ ڈالا۔ اسے مارنے کے لئے کئی شکاریوں کو بھیجا گیا لیکن یہ کسی کے قابو میں نہ آئی اور بالآخر اسے مارنے کے لئے نیپالی فوج بلوالی گئی۔ نیپالی فوج اسے مارنے میں تو ناکام رہی البتہ یہ سرحد پار کرتی ہوئی بھارتی علاقے میں داخل ہوگئی جہاں اس نے کوماﺅں ضلع میں انسانوں پر حملے جاری رکھے۔ رفتہ رفتہ اس شیرنی کی خونخواری اس قدر بڑھ گئی کہ یہ دن کی روشنی میں بھی دیہاتوں میں داخل ہوجاتی اور لوگوں پر حملہ کردیتی۔ اس کی دہشت اس قدر پھیلی کہ لوگوں نے گھروں سے باہر نکلنا بند کردیا اور ملازموں نے کام پر جانا چھوڑ دیا۔
1907ءمیں چمپا وات گاﺅں کی ایک 16 سالہ لڑکی کو اس شیرنی نے ہلاک کیا اور اس کے مردہ جسم کو کھینچتی ہوئی جنگل میں لے گئی۔ اس کے قدموں کے نشانات اور خون کی لکیر کا تعاقب کرتے ہوئے برطانوی شکاری جم کوربیٹ نے جنگل میں پہنچ کر اسے ہلاک کردیا۔ اس واقعے کی خبر سن کر ہزاروں کی تعداد میں دیہاتی جمع ہوگئے اور خوفناک درندے سے نجات پر شکر ادا کیا۔ شیرنی کے پوسٹمارٹم سے معلوم ہوا کہ اس کے بالائی اور زیریں جبڑے کا ایک ایک دانت ٹوٹا ہوا تھا جس کی وجہ سے یہ جنگلی جانوروں کا شکار نہیں کرسکتی تھی اور غالباً اسی بات نے اسے انسانوں کے شکار کی راہ دکھائی۔ چمپا وات قصبے میں چتار پل کے قریب آج بھی اس جگہ ایک پتھر نصب ہے جہاں 430 انسانوں کو ہلاک کرنے والی شیرنی کو ہلاک کیا گیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…