پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

موبائل فون، دودھ، گھی، سیمنٹ ، کھاد مہنگے نہیں کیے، غریب دوست بجٹ پیش کیا، اسحاق ڈار

datetime 6  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد( نیوزڈیسک)وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ امیروں کا نہیں غریبوں کا بجٹ پیش کیا، گلگت بلتستان کیلئے گندم پر سبسڈی ختم نہیں کی ،شہدا کی بیواﺅں کے ذمہ واجب الادا دس لاکھ روپے کا قرضہ اور سود ختم کر دیا۔تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کم کیا، چھوٹے موبائل سستے ہوئے ، پیک دہی اور پنیر کی قیمت بڑھائی، بیرون ممالک بھیجا جانیوالا سمینٹ مہنگا کیا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے لیے گندم پر سبسڈی ختم نہیں کی گئی ، سبسڈی کیلئے 6ارب 50 کروڑ روپے رکھے گئے، گھی اورخوردنی تیل کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ دودھ کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا، پیک دہی اور پنیر کی قیمت معمولی بڑھائی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ملکی سطح پر سیمنٹ کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا بلکہ بیرون ملک سیمنٹ کی درآمد پر ٹیکس عائد کیا۔کھاد کی قیمتوں پر اعدادو شمار غلط بیان کیے گئے ، قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا۔ چھوٹے موبائل فونز پر ڈیڑھ سو ڈیوٹی اور ڈھائی سو ریگولیٹر ڈیوٹی تھی جس کی ڈیوٹی کو ساڑھے تین سو کر دیا جس سے فون پچاس روپے سستا ہوا ہے ، مہنگے موبائل فون کی قیمت میں معمولی اضافہ کیا۔ بجٹ میں غریبوں کے لیے بہت کچھ ہے ، وفاقی سیکرٹریز کی تنخواہیں ڈبل نہیں کی گئیں ، صرف پرائیویٹ سیکرٹریز کی خصوصی تنخواہوں میں اضافہ کیا۔ چھوٹے کسانوں کو ٹیوب ویل کے لیے بلاسود قرضے دیں گے شمسی توانائی سے چلنے والے 30 ہزار ٹیوب ویل لگائے جائیں گے۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو 102 ارب روپے تک لے کر گئے ہیں۔روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے اقدامات کیے۔ نوجوانوں کے لیے آئندہ بجٹ میں 20 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یوتھ سکیم کے لیے ساڑھے سات ارب روپے خرچ کیے۔ ٹیکس کا بوجھ صاحب حیثیت لوگوں پر ڈالا ہے۔شہدا کی بیواﺅں کے ذمہ واجب الادا دس لاکھ روپے کا قرضہ اور سود ختم کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…