پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

سرکاری ملازمین کی تخواہوں میں ساڑھے سات فیصد اضافے کااعلان

datetime 6  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے سرکاری ملازمین کی تخواہوں میں ساڑھے سات فیصد فیصد اضافہ کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزدور کی کم سے کم تنخواہ 12 ہزار سے بڑھا کر 13 ہزارروپے کردی گئی ۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ ماضی کی روایت کے مطابق حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے افراط زر اور مالیاتی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارشات دیں۔ حکومت نے اس سلسلے میں جو فیصلے کئے ان کے مطابق تمام وفاقی حکومت کے ملازمین کو یکم جولائی 2015ءسے رواں بنیادی تنخواہ میں کمیٹی کی سفارش جو 5 فیصد ایڈہاک اضافہ کی تھی، کی بجائے 7.5 فیصد ایڈہاک ریلیف الا ¶نس دیا جائے گا جبکہ 2011ءاور 2012ءکے ایڈہاک اضافہ جات کو پے سکیلز میں ضم کیا جا رہا ہے۔ تمام سرکاری ملازمین کے میڈیکل الا ¶نس میں 25 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے۔ گریڈ 5 کے ملازمین کو ایک پیشگی انکریمنٹ دی جائے گی جو کہ پچھلے سال صرف گریڈ 1سے 4 تک کے ملازمین کو دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ یکم جولائی 2015 سے وفاقی حکومت میں کام کرنے والے Ph.D/D.Sc ڈگری کے حامل ملازمین کو 10 ہزار روپے ماہانہ Ph.D الا ¶نس دیا جائے گا۔ یہ الا ¶نس پہلے سے موجودہ سائنس و ٹیکنالوجی الا ¶نس 7500 روپے ماہانہ اور پی ایچ ڈی الا ¶نس 2250 روپے کی جگہ لے گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ سینئر پرائیویٹ سیکرٹری، پرائیویٹ سیکرٹریز، اور اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹریز کی خصوصی تنخواہ میں 100 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اردلی الا ¶نس اور خصوصی اضافی پنشن کو بھی بڑھا کر 12000 روپے ماہانہ کیا جا رہا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی طرز پر مزدور طبقے کی بہبود کے لیے کم سے کم اجرت کی شرح کو 12000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 13000 روپے ماہانہ کیا جار ہا ہے۔ پنشن یافتہ ملازمین کیلئے کئے گئے اقدامات کے مطابق وفاقی سطح کے تمام پنشنرز کی پنشن میں یکم جولائی 2015 سے 7.5 فیصد اضافہ اور میڈیکل الا ¶نس میں 25 فیصد اضافہ کیاجا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بیوہ/طلاق یافتہ بیٹی کے لیے تاحیات یا دوبارہ شادی کرنے تک یکم جولائی 2015 سے پنشن کے دائرہ کار میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ مقرر کردہ وقت کے بعد پنشن کی کمیوٹڈ ویلیو کے دستبردار شدہ حصہ کی بحالی کی پالیسی کا دوبارہ نفاذ کیا جا رہا ہے۔ پنشنرز اور بزرگ شہریوں کے نیشنل سیونگز کی بہبود اسکیم کی سرمایہ کاری کی بالائی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر 40 لاکھ روپے کی جارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…