منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

بارشوں میں کے الیکٹرک کا شہریوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے میں اہم کردار بہت بڑی غفلت سامنے آگئی ، لاکھوں روپے بچانے کے لئے شہریوں کی زندگی دائو پر لگادی

datetime 1  اگست‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) کے الیکٹرک نے بارشوں میں شہریوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کراچی میں شدید بارشوں کے دوران دو درجن کے قریب ہونے والی اموات میں کے الیکٹرک کی بہت بڑی غفلت سامنے آگئی۔ کے الیکٹرک نے لاکھوں روپے بچانے کی خاطر

شہریوں کی زندگی کو دائو پر لگادیا۔ تفصیلات کے مطابق کے الیکٹرک کی جانب سے چند سال پہلے بجلی چوری روکنے کے نام پر کراچی میں تانبے اور سلور کی تاریں ہٹا کر ان کی جگہ نئے کھمبوں پر نئے کیبل وائر ڈالے گئے۔ کراچی کے اکثریت علاقوں میں کیبل وائر ڈالے جانے کے موقع پر کے الیکٹرک نے اپنے لاکھوں روپے بچانے کے لئے کیبل وائر کے ساتھ ارتھ وائر نہیں ڈالا گیا۔ تکنیکی ماہرین کے مطابق اگر کے الیکٹرک بجلی کے پولوں پر کیبل وائر کے ساتھ ارتھ وائر بھی ڈالتی تو کرنٹ لگنے کی صورت میں جانی نقصان سے بچا جاسکتا تھا کیونکہ فیز کے ساتھ ارتھ کی موجودگی میں ارتھ کسی بھی جاندار یا انسانی جان کو کرنٹ لگنے کی صورت میں فوری الگ کردیتا ہے اور کرنٹ (فیز) سے انسانوں پر ہونے والے نقصانات کو کم کرتا ہے۔ شہریوں کا بھی کہنا ہے کہ اگر کے الیکٹرک کیبل وائر میں فیز کے ساتھ ساتھ ارتھ وائر بھی ڈال دیتی تو انسانی جانوں کے ضیاع کو کم سے کم کیا جاسکتا تھا۔ کے الیکٹرک کی غفلت سے انسانی جانوں کے نقصان پر شہریوں کا سخت ردعمل سامنے آرہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…