بدھ‬‮ ، 04 مارچ‬‮ 2026 

بارشوں میں کے الیکٹرک کا شہریوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے میں اہم کردار بہت بڑی غفلت سامنے آگئی ، لاکھوں روپے بچانے کے لئے شہریوں کی زندگی دائو پر لگادی

datetime 1  اگست‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) کے الیکٹرک نے بارشوں میں شہریوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کراچی میں شدید بارشوں کے دوران دو درجن کے قریب ہونے والی اموات میں کے الیکٹرک کی بہت بڑی غفلت سامنے آگئی۔ کے الیکٹرک نے لاکھوں روپے بچانے کی خاطر

شہریوں کی زندگی کو دائو پر لگادیا۔ تفصیلات کے مطابق کے الیکٹرک کی جانب سے چند سال پہلے بجلی چوری روکنے کے نام پر کراچی میں تانبے اور سلور کی تاریں ہٹا کر ان کی جگہ نئے کھمبوں پر نئے کیبل وائر ڈالے گئے۔ کراچی کے اکثریت علاقوں میں کیبل وائر ڈالے جانے کے موقع پر کے الیکٹرک نے اپنے لاکھوں روپے بچانے کے لئے کیبل وائر کے ساتھ ارتھ وائر نہیں ڈالا گیا۔ تکنیکی ماہرین کے مطابق اگر کے الیکٹرک بجلی کے پولوں پر کیبل وائر کے ساتھ ارتھ وائر بھی ڈالتی تو کرنٹ لگنے کی صورت میں جانی نقصان سے بچا جاسکتا تھا کیونکہ فیز کے ساتھ ارتھ کی موجودگی میں ارتھ کسی بھی جاندار یا انسانی جان کو کرنٹ لگنے کی صورت میں فوری الگ کردیتا ہے اور کرنٹ (فیز) سے انسانوں پر ہونے والے نقصانات کو کم کرتا ہے۔ شہریوں کا بھی کہنا ہے کہ اگر کے الیکٹرک کیبل وائر میں فیز کے ساتھ ساتھ ارتھ وائر بھی ڈال دیتی تو انسانی جانوں کے ضیاع کو کم سے کم کیا جاسکتا تھا۔ کے الیکٹرک کی غفلت سے انسانی جانوں کے نقصان پر شہریوں کا سخت ردعمل سامنے آرہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…