بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

وفاقی بجٹ2015-16 اسٹیل سمیت مختلف شعبوں پر ٹیکسوں میں اضافہ تجویز

datetime 5  جون‬‮  2015 |
Pakisatn Budget updates,Pakisatn Budget news 2014-2015

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2015-16کے وفاقی بجٹ میں اسٹیل سیکٹر کے لیے بجلی پر عائد ٹیکس کی شرح 7 روپے سے بڑھا کر 9 روپے فی یونٹ، شپ بریکرزکے لیے 6ہزار700 روپے سے بڑھا کر ساڑھے7ہزار روپے فی میٹرک ٹن کرنے کے ساتھ مزید ٹیکس کی شرح بھی 2 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی جانب سے فنانس بل کے ذریعے ٹیکسوں کی شرح اور ٹیکس سے متعلقہ قوانین و پروسیجرز میں متعدد ترامیم کی جارہی ہیں جن کے تحت اسٹیل سیکٹر کے لیے بجلی پر ٹیکس کی شرح 7 روپے سے بڑھا کر 9روپے فی یونٹ کرنے کے ساتھ اسٹیل سیکٹر کے لیے ٹیکسوں کی دیگر تمام شرحیں بھی اسی حساب سے بڑھائی جارہی ہیں، اس کے علاوہ سگریٹ پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں بھی مزید اضافہ کیا جارہا ہے جس سے سگریٹ مہنگے ہوجائیں گے۔
سگریٹ کے لیے فلٹر راڈ پر عائد ٹیکس کی شرح بھی بڑھاکر 2 روپے یا اس سے بھی زیادہ کی جارہی ہے، اس کے علاوہ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں قابل ٹیکس سروسزکا دائرہ کار بڑھایا جارہا ہے اور وہ تمام سروسز جن پر پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کی صوبائی ریونیو اتھارٹیز کی جانب سے ٹیکس عائد ہے ان پر وفاقی دارلحکومت اسلام آباد اور بلوچستان میں بھی ٹیکس عائد کیا جارہا ہے تاکہ سروسز سیکٹر میں پورے ملک میں ٹیکسوں کا یونیفائڈ نظام ہو اور ایسا نہ ہو کہ کسی ایک سروس پر وفاق کی سطح پر تو ٹیکس عائد ہی نہ ہو مگر بعض صوبوں میں اس پر ٹیکس عائدہو، حکومت یہ فرق ختم کرنا چاہتی ہے اس کے علاوہ بجٹ میں کاٹیج انڈسٹری قرار دینے کے حوالے سے بھی معیار میں ترامیم کی جارہی ہیں۔
جس کے تحت وہ صنعت کاٹیج انڈسٹری کہلائے گی جس کا سالانہ یوٹیلٹی بل 8 لاکھ یا 9لاکھ روپے سے کم ہو گا جبکہ پہلے 7 لاکھ روپے سالانہ سے کم بل رکھنے والی صنعت کاٹیج انڈسٹری کہلاتی تھی، اس کے علاوہ سیلز ٹیکس رجسٹریشن پروسیجر کو تبدیل کیا جارہا ہے اور ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے آسان بنایا جارہا ہے، اس کے علاوہ درآمدی مقاصد کے لیے عارضی رجسٹریشن کے رولز متعارف کرائے جارہے ہیں جو مینوفیکچررز کے لیے ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…