منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

پاکستان میں رواں سال پولیو کیسز میں70فیصد کمی ہوئی ، عالمی ادارہ صحت کا اعتراف

datetime 5  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں رواں سال پولیوکیسز میں70فیصد کمی ہوئی ہے۔حکام کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کی وجہ سے صورتحال بہترہوئی۔ڈبلیو ایچ اوکے مطابق رواں سال اب تک پاکستان میں پولیوکے24کیس رپورٹ ہوئے ہیں،یہ تعدادگزشتہ سال کے اسی عرصے سے70فیصدکم ہے۔گزشتہ سال 5ماہ میں84کیس سامنے آئے تھے۔گزشتہ برس پاکستان میں پولیوکیسوں کی تعداد 306 رہی تھی۔پولیوکے بیشترکیس قبائلی علاقوں میں سامنے آئے جہاں شدت پسندوں کی جانب سے انسداد پولیو ٹیموں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔عالمی ادارے کے کوآرڈینیٹر ایلس ڈوری نے پولیوکیسز میں کمی کی تصدیق کی اورکہاکہ اس سلسلے میں کی جانیوالی کوششیں کامیاب رہی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ وزیرستان تک رسائی اور وہاں سے آنیوالے متاثرین آپریشن میں پولیو ویکسینینش کی وجہ سے پولیو کیسزمیں کمی آئی۔ محکمہ صحت کے اہلکار رانا صفدر نے بھی عالمی ادارہ صحت کے ڈیٹاکی تصدیق کی۔وزیر اعظم کے انسداد پولیو پروگرام کی مشیر عائشہ رضاکاکہنا تھاکہ شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے وقت صرف ہوا ہے اور اسکا اثر انسداد پولیو پروگرام میں بھی ہواہے۔عائشہ رضاکاکہنا تھاکہ قبائلی علاقوں میں اس سال صرف سات نئے کیس سامنے آئے جبکہ کراچی سے کوئی نیاکیس سامنے نہیں آیا۔عائشہ رضا نے بتایاکہ ان علاقوں میں فوج انتہائی مددگار ثابت ہوئی۔انکی مدد اورمتحدہ عرب امارات کے مالی تعاون سے ہم شدیدمتاثرہ علاقوں میں انسدادپولیومہم پھیلانے میں کامیاب رہے اوردوسال بعدہمیں وزیرستان کی آبادی تک رسائی حاصل ہوئی۔ادھروزیرمملکت برائے نیشنل ہیلتھ سروسزسائرہ افضل تارڑ نے بین الاقوامی ماہرین کے پولیو جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان2014کی صورتحال سے نکل آیا ہے اوراب ہم پولیوکے مکمل خاتمے کی راہ پرگامزن ہیں۔انھوں نے کہاکہ حکومت اس معاملے میںسنجیدہ اور پرعزم ہے اوراس وقت فاٹاکے تمام علاقوں میں پولیومہم جاری ہے۔ادھرٹوئٹر پر اپنے پیغام میں آصفہ بھٹو زرداری نے کہاکہ ہم ملک سے پولیوکے خاتمے کے نزدیک پہنچ چکے ہیں، پولیو کیسز میں کمی خوش آئند ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…