جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

درندے نے دس سالہ بچے کو زیادتی کے بعد سر میں پتھر مار مار کر بے دردی سے قتل کر دیا، ماں کی بیٹے کی لاش کے قریب بیٹھ کر رو رو کر وزیراعظم عمران خان سے فریاد

datetime 15  جولائی  2019 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) باٹا پور کے علاقے میں دس سالہ بچہ درندگی کا نشانہ بن گیا، بچے کے ساتھ مبینہ زیادتی کے بعد اس کے سر میں پتھر مار مار کر قتل کر دیا گیا، پولیس نے والد امجد علی کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، لاہور میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات تھم نہ سکے،

باٹا پور کے رہائشی امجد کا دس سالہ بیٹا گھر سے بکریاں چرانے کے لیے گیا جسے کسی درندہ صفت شخص نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا،  نہ صرف زیادتی کا نشانہ بنایا بلکہ اس کے سر پر پتھر مار مار کر بے دردگی سے قتل کر دیا، دس سالہ سبحان چوتھی کلاس کا طالب علم تھا اور فارغ اوقات میں گھر کا پہیہ چلانے کے لیے والد کا ہاتھ بٹاتا تھا، بچے کے والد نے بتایا کہ اس کے دو ہی بچے تھے ایک بیٹا اور ایک بیٹی، اس نے روتے ہوئے کہا کہ آج میں لُٹ گیا ہوں، دس سالہ سبحان کی والدہ نے وزیراعظم عمران خان اور پولیس حکام سے بیٹے کے قاتل کو عبرتناک انجام تک پہنچانے کی اپیل کر دی ہے، بچے کی والدہ فرح بی بی نے رو رو کر بتایا کہ میرے بچے کے ساتھ زیادتی کرکے، اس کا گلہ دبایا گیا اور پھر پتھر مار کر اسے مارا گیا ہے، مجھے عمران خان اور حکومت سے انصاف چاہیے، اگر اللہ نے اس کو یہ کرسی تو مجھے بس انصاف دلا دے اور مجھے کچھ نہیں چاہیے، دوسری جانب بچے کی لاش کو تحویل میں لے کر پولیس نے پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا، ایس پی کینٹ صفدر رضا کاظمی کا کہنا ہے کہ بچے کی لاش گھر کے قریب کھیتوں سے ملی، انہوں نے کہا کہ پولیس فرانزک پنجاب کی خدمات حاصل کر رہی ہے بہت جلد قاتل تک پہنچ جائیں گے، ایس پی کینٹ نے کہا کہ جلد ملزمان کو گرفتار کرکے تمام حقائق آپ کے سامنے رکھے جائیں گے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…