جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

وکٹوریا! وہ مسلمان خاتون جس کی وجہ سے آج گوادر پاکستان کا حصہ ہے،اس شہر کی خریداری کیلئے تمام رقومات کس نے ادا کیں؟وہ معلومات جو آپ کو کسی نے نہیں بتائی ہونگی

datetime 8  جولائی  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )گوادرکو اومان سے پاکستان کو دلوانے میں سب سے اہم ترین کردارکس خاتون نے ادا کیا جان کر آپ حیران رہ جائینگے۔آئیے آج ہم آپ کو اس خاتون سے متعلق بتاتے ہیں ۔اس خاتون کا نام وکٹوریہ تھا جس کا اسلامی نام وقار النسا نون تھا۔ وکٹوریا پاکستان کے ساتویں

وزیراعظم فیروز خان نون کی اہلیہ تھیں ۔ وکٹوریا ایک جرات مند خاتون تھیں جنہوں نے لندن میں 1958 میں گوادر کو پاکستان میں شامل کرنے کیلئے اپنی محنت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ۔ انہوں نے وہاں پر رہ کر برطانوی وزیراعظم اور پارلیمنٹ اوربرطانیہ میں موجود اومان کے نمائندوں کو گوادر پاکستان کو دینے کیلئے راضی کیا ۔اس وقت ایران کے شاہ نے نیا نیا تخت سنبھالا تھا اور اس وقت کے امریکی صدر رچرڈ نکسن اور برطانوی وزیراعظم کے درمیان گوادر ایران کو دینے سے متعلق بات چیت بھی جاری تھی ۔وکٹوریا نے جب دیکھا کہ امریکی گوادر ایران کو دینے کیلئے بات چیت کر رہے ہیں تو وہ اس معاملے میں داخل ہوئیں اور انہوں نے گوادر پاکستان کو دلوانے کیلئے ونسٹن چرچل سے بھی ملاقات کی جنہوں نے پاکستان کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا ، وکٹوریا کی درخواست پر ونسٹن نے بھی گوادر کے معاملے پر اہم کر دار ادا کیا۔یہاں پر ہم ایک اور انتہائی بڑی شخصیت کا ذکر نہیں بھول سکتے جنہوں نے گوادر پاکستان کو دلوانے کیلئے بڑا کر دار ادا کیا۔ ان کا نام ہے پرنس آغا خان جنہوں نے پاکستان کی طرف سے گوادر کی خریداری کیلئے تمام رقوم خود ادا کیں ۔وکٹوریا کے علاوہ ان کے شوہر اور پاکستان کے سابق وزیراعظم فیروز خان نون نے بھی بہت محنت کی۔آج 62 سال کے بعد گوادر پاکستان کا سب سے اہم ترین علاقہ بن چکاہے اور اس حوالے سے چین پاکستان کے ساتھ مل کر اقتصادی راہداری بھی بنا رہاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…