اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

پروڈکشن آرڈر پر باہر آنیوالے کہتے ہیں سیاسی انتقام لیا جارہا ہے مگر جو کرے گا وہ بھرے گا،چیئرمین نیب کادبنگ اعلان

datetime 4  جولائی  2019 |

اسلا م آباد(سی پی پی)قومی احتساب بیورو( نیب) کے چیئرمین جسٹس(ر)جاوید اقبال نے واضح کیا ہے کہ پروڈکشن آرڈر پر باہر آنیوالے کہتے ہیں سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے،نیب سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتا، جو کرے گا وہ بھرے گا ،نیب کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں مگر یہاں ہر موڑ پر ڈکیت بیٹھے ہیں، ہمارا کام ملک کو کرپشن سے پاک کرنا ہے۔

جو لوگ 40 سال سے برسر اقتدار رہے پہلے ان کا احتساب ضروری ہے، کبھی فیس نہیں ہمیشہ کیس کو دیکھا ہے، نیب کا کسی سے جائیداد کا تنازع نہیں ، سیاسی انتقام ثابت کریں نیب چھوڑدوں گا۔اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب کا کہنا تھا ادارے کا کام صرف احتساب کرنا ہے اور نیب کی کوشش ہوتی ہے کہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ لوگ عدالتوں سے باہر نکل کر کہتے ہیں کہ نیب سیاسی انتقام کا نشانہ بنارہا ہے، تاہم نیب کی پالیسی ہے کہ جو کرے گا وہ بھرے گا جس پر ہم قائم ہیں۔چیئرمین نیب نے کہا کہ میں سب کو یقین دلاتا ہوں کہ نیب میں سیاسی انتقام کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا، نیب کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے چیلنج کیا کہ آپ ثابت کر دیں کہ نیب کا سیاست سے تعلق ہے، اگر ایسا ہوجائے تو میں اپنا عہدہ چھوڑ دوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ نیب نے اپنی کارروائی کے دوران لوگوں بالخصوص خواتین کی عزت نفس کا بھرپور خیال رکھا ہے۔جسٹس (ر)جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ مہینوں سے برسر اقتدار کا بھی احتساب ہو رہا ہے، تمام انکوائریوں کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، نیب کیلئے سب برابر ہیں چاہے وہ برسراقتدار ہیں یا نہیں، ہم نے فیس نہیں کیس دیکھا ہے، 80 یا 90 کی دہائی میں موٹر سائیکل والوں کے آج دبئی میں ٹاور ہیں۔

کروڑوں اور اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی ہے، چند لوگوں کو اکٹھا کر کے وی کا نشان بنانے سے کوئی معصوم نہیں ہو جاتا۔جسٹس(ر)جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب کے پاس شواہد موجود ہیں، وہ لوگوں سے کرپشن کے بارے میں پوچھے گا اور اپنی ذمہ داری سے رو گردانی نہیں کرے گا۔ان کا کہا تھا کہ نیب کا کام کسی کو سزا دینا نہیں بلکہ نیب ثبوت عدالت کے سامنے رکھ دیتا ہے اور عدالت نے ہی ملزم کو سزا دینی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لوگ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ آج ان سے پوچھ گچھ ہورہی ہے جن سے پہلے کبھی پوچھ گچھ نہیں کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ نیب کے کیسز کو عام مجرمانہ کیسز سے نہ جوڑا جائے، کیونکہ یہ کیسز حل ہونے میں وقت درکار ہوتا ہے کیونکہ ان کی شروعات لاہور سے ہوتی ہے تو تانے بانے آسٹریلیا اور امریکا تک چلے جاتے ہیں۔چیئرمین نیب نے ملک میں نیب کے اہلکاروں کی تربیت کے لیے انسٹیٹیوٹ کے قیام پر زور دیا۔جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ ملک کا 100 ارب ڈالر کا قرض اللے تللوں پر خرچ ہوا۔

اگر ایسا نہ ہوتا تو پاکستان دیگر ممالک کی صفوں میں شامل ہوتا۔انہوں نے کہا کہ جتنا پیسہ نیب پر خرچ ہورہا ہے، نیب اس سے زیادہ پیسہ قومی خزانے میں لوٹا رہا ہے کیونکہ ہمیں احساس ہے کہ قوم ٹیکس دے کر ہمیں تنخواہ دیتی ہے۔چیئرمین نیب نے قوم کو یقین دلایا کہ ان کا پیسہ ان کے لیے امانت ہے اور میں کبھی خیانت نہیں ہوگی۔شہادتیں موجود ہونے کے بعد کیا نیب آنکھیں بند کر لے گا ؟ وائٹ کالر اور عام کرائم میں زمین آسمان کا فرق ہے، جو کرے گا وہ بھرے گا یہ نیب کی بنیادی پالیسی ہے۔

کسی بیوروکریٹ کی آج تک کوئی شکایت نہیں آئی۔جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ یہاں آپ کو ہر موڑ پر ڈکیت ملیں گے، سپریم کورٹ سے فارغ ہو کر ڈی ایچ اے میں سرمایہ کاری کی، سرمایہ کاری کے بعد پتہ چلا ڈی ایچ اے نے ابھی زمین ہی نہیں خریدی، ادارے نے رابطہ کر کے کہا آپ کے پیسے واپس کر دیں گے، نیب کی وجہ سے آج لوگوں کو رقوم مل رہی ہیں، کسی ادارے نے متاثرین کی مدد نہیں کی، سی ڈی اے صحیح کام کرتا تو لوگ اتنی سرمایہ کاری نہ کرتے، نیب واحد ادارہ ہے جو لوگوں کی رقوم واپس دلا رہا ہے، غیر قانونی سوسائٹیوں کی نشاندہی سی ڈی اے کا کام تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…