بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

غلط بیانی کے ذریعے درآمدی کھیپ کلیئرکرانے کی کوشش ناکام

datetime 2  جون‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) محکمہ کسٹمز کے پورٹ قاسم کلکٹریٹ نے مس ڈیکلریشن کے ذریعے کنسائمنٹ کلیئرکرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے XING انٹرپرائزز کوشوکازنوٹس جاری کردیا۔ ”ایکسپریس“ کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق XINGانٹرپرائزز کی جانب سے کھلونوں کے کنسائمنٹ کو مس ڈیکلریشن کے ذریعے کلیئرکرانے کی کوشش کرتے ہوئے قومی خزانہ کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
دستاویز کے مطابق میسرز XINGانٹرپرائزز نے 12مئی 2015کو درآمدکردہ کنسائمنٹ کی گڈز ڈیکلریشن فائل کرتے ہوئے ایک آئٹم کو سوئنگ ٹویسٹر ظاہر کیا تھا جس پر کسٹمزڈیوٹی کی شرح 5 فیصد، سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد، ایڈیشنل سیلز ٹیکس کی شرح 3 فیصد اور انکم ٹیکس کی شرح6فیصد ہے جبکہ کلکٹریٹ کی کسٹمز ایگزامینشن کے دوران انکشاف ہواکہ مذکورہ درآمدی کنسائمنٹ میں ریدامینول کارموجودہے جس پر کسٹمزڈیوٹی کی شرح 20 فیصد، سیلزٹیکس کی شرح 17 فیصد،ایڈیشنل سیلزٹیکس کی شرح 3 فیصد اورانکم ٹیکس کی شرح6فیصدکے حساب سے عائد ہے۔
اس طرح متعلقہ درآمدکنندہ نے مذکورہ آئٹم کی کلیئرنس پر 15 فیصد کسٹمز ڈیوٹی چوری کرنے کی کوشش کی جبکہ ”کک اسکوٹی“کی کلیئرنس کیلیے پاکستان کسٹمزٹیرف(پی سی ٹی) 9506.9990 کا سہارا لیاگیاتاکہ کنسائمنٹ کی کلیئرنس صرف 5فیصد کسٹمز ڈیوٹی کی ادائیگی پرممکن ہوسکے جبکہ کک اسکوٹی کی کلیئرنس پی سی ٹی 9503.0010کے تحت کی جاتی ہے۔
جس پر کسٹمز ڈیوٹی 20 فیصد کی شرح سے عائد ہوتی ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ پورٹ قاسم پر تعینات ڈپٹی کلکٹر اطہر نوید نے مس ڈیکلریشن کے ذریعے کنسائمنٹ کی کلیئرنس کو ناکام بناتے ہوئے Xing انٹرپرائززکو شوکازنوٹس جاری کردیا تاہم مس ڈیکلریشن میں مبینہ طور پرملوث مذکورہ درآمدکنندہ کمپنی شوکازنوٹس کا جواب دینے کے بجائے اپنے اثرورثوق استعمال کرتے ہوئے پورٹ قاسم کلکٹریٹ کے متعلقہ افسران بالخصوص ڈپٹی کلکٹر اطہر نویدپر دباﺅ ڈالنے کی کوششیں کررہی ہے۔ محکمہ کسٹمز کے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ درآمدکنندہ کمپنی کی جانب سے اپنے کنسائمنٹس کی کلیئرنس فکسڈ کرلی جاتی ہیں اور جعلسازی کے مختلف انداز اختیار کرتے ہوئے کلیئرنس من پسند ڈیوٹی و ٹیکسوںکی ادائیگی پر کرانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…