جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

میں خود پیر ہوں،اقتدار کے دروازے بند ہو سکتے ہیں،جاوید ہاشمی کاعرس کی افتتاحی تقریب سے خطاب،بڑا دعویٰ کردیا

datetime 15  جون‬‮  2019 |

جہانیاں (این این آئی) بزرگ سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ اقتدار کے دروازے بند ہو سکتے ہیں اولیاء کرام کے در کبھی بند نہیں ہوتے ان کی بادشاہت ہمیشہ قائم رہتی ہے، میں خود پیر ہوں لیکن آج تک کبھی کسی مرید سے ایک دھیلا تک نہیں لیا،مسلمانوں کی لکھی کتب سے استفادہ حاصل کرکے غیر مسلموں نے ہم پر حکومت کی لیکن ہم اپنے اسلاف کی تعلیمات سے محروم رہے، دنیا اس وقت جن دہشت گردی،پریشانیوں جیسے مسائل میں پھنسی ہوئی ہے اس نجات سے کا

ایک ہی حل ہے کہ اولیاء اللہ کی سچی تعلیمات پر عمل کیا جائے،برصغیر میں تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کا سہرااولیا کرام کے سر ہے۔ ان خیالات کا اظہار برصغیر کی عظیم روحانی شخصیت حضرت مخدوم عبدالرشید حقانی کے عرس کی افتتاحی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے اولیاء کرام سے فیض حاصل کرکے عوام کی خدمت کی ہے سرزمین اولیاء ملتان میں انٹر نیشنل ائیر پورٹ بنوایا جہاں سے دس برس تک براہ راست حجاز مقدس پروازیں جاتی رہی ہیں،سوشل میڈیا پر جاوید ہاشمی کو سر سیّد ثانی کہاجاتا ہے کیونکہ میں نے ملتان میں ایک دو نہیں پانچ یونیورسٹیاں قائم کروائیں ہیں لیکن کسی پر اپنی تختی نہیں لگوائی۔انہوں نے کہا کہ اولیاء کرام کا فیض سب کیلئے ہے میں اولیاء کے فیض سے خود بھی پیر ہوں لیکن کبھی بھی آج تک کسی مرید سے ایک دھیلا بھی نذرانہ نہیں لیا۔ جب تک لوگ صوفیاء سے وابستہ تھے ان سے دینی،علمی و فکری رہنمائی حاصل کرتے رہے تب تک یہ خطہ امن اور محبت کا گہوارہ تھااور لوگ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے نام سے بھی واقف نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ اگر دنیا دہشت گردی سے نجات چاہتی ہے تو صوفیائے کرام کی پاک زندگیوں اور تعلیمات کا مطالعہ کرے یہ وہ تعلیمات ہیں جو کہ فرقہ واریت،رنگ و نسل اور امیرغریب کے فرق کے بغیرمحض انسانیت کا درس دیتی ہیں۔ریسرچ سکالر مخدوم زادہ محمد شاہ نے بھی تقریب سے خطاب کیا ان کہنا تھا کہ مخدوم عبدالرشیدحقانی ؒ سے متعلق کئی اہل قلم نے لکھا،

مگر ہر دور میں ان کی شخصیت کے کئی گوشے تحقیق طلب رہے، الحمداللہ دو حاضر میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کو یہ اعزاز حاصل ہوا، جس نے پہلی مرتبہ مخدوم عبدالرشید حقانی ؒ پر پی ایچ ڈی سطح پر تحقیقی کام کی منظوری دی، انہوں نے مزید کہاکہ بہت جلد آپ ؒ کی حیات مبارکہ، صوفیانہ خدمات، افکاراور صدیوں تک محیط اثرات کا مکمل احاطہ سند تحقیق کے ساتھ سامنے آئے گا،ملتان کی صوفیانہ روایت کی تشکیل میں مخدوم عبدالرشید حقانیؒ کا بہت اہم کردارہے اور

اپنے ہم عصر صوفیا ء کرام میں آپ منفرد مقام رکھتے ہیں، سابق ناظم ذولفقار علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہاکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ اؤقاف بھی اس میں تعاون کرتے ہوئے حقانی ریسرچ سنٹر قائم کرے اور ہزاروں عقیدت مندوں کی اپنے مرشد کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کی راہ ہموار کرے برصغیر پاک و ہند میں سلسلہ قادریہ کے بانی حضرت مخدوم عبدالرشید حقانی ؒ کے 771ویں سالانہ 30روزہ عرس کی افتتاحی تقریب گزشتہ روز مخدوم رشید میں منعقد ہوئی،مزار کو عرق گلاب سے غسل دیا گیا،چادر پوشی کی گئی،قرآن خوانی اور نعت خوانی کا بھی اہتمام کیا گیا۔تقریب میں مخدوم زاہد بہار ہاشمی،چوہدری خلیل احمد گھمن،محمد عارف سعید،حسیب خالد جوئیہ،حسنین جوئیہ سمیت دیگر نے شرکت کی، اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…