منگل‬‮ ، 07 اپریل‬‮ 2026 

اسد عمر کی کارکردگی بہت اچھی تھی، ان کے فیصلے بہت اچھے تھے،تاجر سابق وزیرخزانہ کی حمایت میں اُٹھ کھڑے ہوئے،ڈالر کے ساتھ اب کیا ہوگا؟انتباہ کردیا

datetime 15  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)چیئرمین اے کے ڈی گروپ عقیل کریم ڈھیڈی نے کہاہے کہ ملک میں روپے کی قدر مزید نہیں گرنی چاہیے، اگر ڈالر اور اوپر گیا تو ملک میں مہنگائی بہت زیادہ ہوجائیگی۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اب لوگ روپے کو گھر میں نہیں رکھنا چاہتے جن لوگوں نے بینکوں میں ڈالر رکھے ہوئے ہیں ان سے بھی پوچھ گچھ ہونی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت روپے پر جو دباؤآ رہا ہے یہ طلب اور رسد کا ہے، ہمارے تجارتی خسارے کے باعث ایسا ہو رہا ہے۔

آئی ایم ایف کی شرائط پہلے آسان ہوتی تھیں لیکن اب انہوں نے مشکل فیصلوں پر مجبور کر دیا ہے، غیرمقبول فیصلوں کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے لیکن اس سے ملک میں مہنگائی بڑھے گی۔عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا کہ ملک کو پیچھے لے جانے والے بھی ہم ہی لوگ ہیں، اب آگے لے جانے کے لیے قیمت بھی ہمیں ہی ادا کرنی ہوگی۔پاکستان کے سرمایہ کار نے جتنی ترقی کی ہے، اتنی دنیا کے کسی ملک کے سرمایہ کار نے نہیں کی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام لوگوں کا اعتماد بحال کرنا ہے، اس حوالے سے اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ مارکیٹ میں افواہیں پھیلانے کا رجحان ختم ہو۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے کارپوریٹ ٹیکس، بینک ٹیکس میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے، ایسے لوگوں کو نشانہ بنایا ہے جو بالکل ٹیکس نہیں دیتے۔ بجٹ خسارہ نہ بننے دینا موجودہ حکومت کی بڑی کامیابی ہے، اب ان کا امتحان ٹیکس اکٹھا کرنا ہے۔عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا کہ اسد عمر کی کارکردگی بہت اچھی تھی، ان کے فیصلے بہت اچھے تھے، انہوں نے پاکستان کے لیے آئی ایم ایف سے لڑائی لڑی، وہ پاکستان کے مفاد کے لیے لڑ رہے تھے۔عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا کہ فوج اگر بجٹ کم کرنے کا کہہ رہی ہے تو ہمیں ملک کے معاشی حالات کا اندازہ لگا لینا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا پورا ملک کرپشن اور کالے دھن سے چل رہا ہے، دو سال سے پاکستان نے بیرون ملک

اس کی منتقلی کو روکنے کی کوشش کی ہے۔ بھارت میں کاروباری سرگرمیاں بہت ہیں لیکن وہاں غربت بھی وہاں بہت ہے۔انہوں نے کہا کہ صبح شام صرف سیاستدانوں کی کرپشن کی بات ہوتی ہے لیکن ایف بی آر، ایف آئی اے سمیت تمام اداروں کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے پیسے کمانے والوں کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے اور جعلی کیسز بنانے والوں کا احتساب ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا بینکاری نظام صرف 34 خاندانوں کو خدمات دیتا ہے، حکومت نے بینکوں پر حکومتوں کو قرضے دینے سے متعلق ٹیکس بڑھا کر اچھا کام کیا ہے کہ اس سے ان کی زیادہ ترجیح سرمایہ کار ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…