جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

اسد عمر کی کارکردگی بہت اچھی تھی، ان کے فیصلے بہت اچھے تھے،تاجر سابق وزیرخزانہ کی حمایت میں اُٹھ کھڑے ہوئے،ڈالر کے ساتھ اب کیا ہوگا؟انتباہ کردیا

datetime 15  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)چیئرمین اے کے ڈی گروپ عقیل کریم ڈھیڈی نے کہاہے کہ ملک میں روپے کی قدر مزید نہیں گرنی چاہیے، اگر ڈالر اور اوپر گیا تو ملک میں مہنگائی بہت زیادہ ہوجائیگی۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اب لوگ روپے کو گھر میں نہیں رکھنا چاہتے جن لوگوں نے بینکوں میں ڈالر رکھے ہوئے ہیں ان سے بھی پوچھ گچھ ہونی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت روپے پر جو دباؤآ رہا ہے یہ طلب اور رسد کا ہے، ہمارے تجارتی خسارے کے باعث ایسا ہو رہا ہے۔

آئی ایم ایف کی شرائط پہلے آسان ہوتی تھیں لیکن اب انہوں نے مشکل فیصلوں پر مجبور کر دیا ہے، غیرمقبول فیصلوں کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے لیکن اس سے ملک میں مہنگائی بڑھے گی۔عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا کہ ملک کو پیچھے لے جانے والے بھی ہم ہی لوگ ہیں، اب آگے لے جانے کے لیے قیمت بھی ہمیں ہی ادا کرنی ہوگی۔پاکستان کے سرمایہ کار نے جتنی ترقی کی ہے، اتنی دنیا کے کسی ملک کے سرمایہ کار نے نہیں کی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام لوگوں کا اعتماد بحال کرنا ہے، اس حوالے سے اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ مارکیٹ میں افواہیں پھیلانے کا رجحان ختم ہو۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے کارپوریٹ ٹیکس، بینک ٹیکس میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے، ایسے لوگوں کو نشانہ بنایا ہے جو بالکل ٹیکس نہیں دیتے۔ بجٹ خسارہ نہ بننے دینا موجودہ حکومت کی بڑی کامیابی ہے، اب ان کا امتحان ٹیکس اکٹھا کرنا ہے۔عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا کہ اسد عمر کی کارکردگی بہت اچھی تھی، ان کے فیصلے بہت اچھے تھے، انہوں نے پاکستان کے لیے آئی ایم ایف سے لڑائی لڑی، وہ پاکستان کے مفاد کے لیے لڑ رہے تھے۔عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا کہ فوج اگر بجٹ کم کرنے کا کہہ رہی ہے تو ہمیں ملک کے معاشی حالات کا اندازہ لگا لینا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا پورا ملک کرپشن اور کالے دھن سے چل رہا ہے، دو سال سے پاکستان نے بیرون ملک

اس کی منتقلی کو روکنے کی کوشش کی ہے۔ بھارت میں کاروباری سرگرمیاں بہت ہیں لیکن وہاں غربت بھی وہاں بہت ہے۔انہوں نے کہا کہ صبح شام صرف سیاستدانوں کی کرپشن کی بات ہوتی ہے لیکن ایف بی آر، ایف آئی اے سمیت تمام اداروں کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے پیسے کمانے والوں کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے اور جعلی کیسز بنانے والوں کا احتساب ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا بینکاری نظام صرف 34 خاندانوں کو خدمات دیتا ہے، حکومت نے بینکوں پر حکومتوں کو قرضے دینے سے متعلق ٹیکس بڑھا کر اچھا کام کیا ہے کہ اس سے ان کی زیادہ ترجیح سرمایہ کار ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…