جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

حکومت کا آف شور اثاثہ جات رکھنے والوں کو سخت سزائیں دینے کا فیصلہ،تفصیلات منظر عام پر آگئیں 

datetime 14  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی حکومت نے آف شور اثاثہ جات رکھنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کو سخت سزائیں دینے کا فیصلہ کیا ہے،میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے ٹیکس چوری کے لیے غیر ظاہر کردہ آف شور اثاثہ جات رکھنے والوں اور ان کے سہولت کارواں کو ایک لاکھ روپے سے 50لاکھ روپے تک کے جرمانے اور 7 سال کی سزا تک کی قید کی سخت سزئیں دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ آف شور اثاثہ جات رکھنے والوں کے نام بھی میڈیا پر نشر کیے جائیں گے۔جس کے مقصد کے تحت آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں فنانس بل2019ء  کے ذریعے سے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں ترامیم تجویز کی ہیں جس کے تحت آف شور اثاثہ جات رکھنے والوں کو جاری کردی نوٹس کا جواب نہ دینا قابل سزا جرم ہو گا۔جن لوگوں کو اتھارٹیز کی جانب سے نوٹس جاری کیے گئے ان کے کمپلائنس نہ کرنے والوں کو ظاہر نہ کرنے والوں کو ظاہر نہ کیے جانے والے آف شور اثاثہ جات کے دو فیصد کے برابر جرمانہ اور دو سال تک کی سزا یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جا سکیں گی۔خیال رہے دو روز قبل وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سٹیبل ہو گیا ہے، چند سال ہیں پھر یہ ملک اوپر اٹھتا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں کرپشن کرنے والوں کے پیچھے جاؤں گا، مجھے حکومت جانے کی فکر نہیں ہے، میری جان بھی چلی جائے میں انکو نہیں چھوڑوں گا۔ایک شخص صرفعلاج کروانے جاتا تھا اور 28کروڑ روپے خود پر خرچ کر لیتا تھا جو عوام کا تھا جبکہ اس شخص کا اپنا بیٹا باہر 650 ارب کے فلیٹ میں رہتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ادھا پیسہ سود اور قرض دینے میں چلا جاتا ہے، ملک کہاں سے چلاؤں؟ یہ جو بجٹ ہے اس میں ہم نے کمزوروں اور غریبوں کے لیے بجٹرکھا ہے، ہاؤسنگ کے لیے 6 ارب روپے دیے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ میں اپنے گھر کا سارا خرچہ خود کرتا ہوں۔

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ نئے پاکستان کی عکاسی کرے گا اور پاکستان عظیم ملک بنے گا۔انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں مدینہ 14سو سال پہلے بنی تھی اب کوئی نئی بات کرو، میں کہتا ہوں کہ وہ ماڈرن ریاست تھی۔ اصل ریاست وہ ہے جس ریاست کا سربراہ جوابدہ ہو، جہاں کوئی قانون سے اوپر نہ ہو۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ نظریہ پاکستان کی عکاسی کرنے والا بجٹ ہے، مدینہ کی ریاست کے اصول مغربی دنیامیں ہیں لیکن ہم انہیں نہیں اپنا سکے۔ عمران خان نے سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب اشارہ کر کے کہا کہ کوئی کہتا تھا کہ نیب اسے نہیں پکڑ سکتا اور یہ کہ نیب کون ہوتا ہے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ آج بڑے بڑے برج الٹ گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…