جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

 وفاقی بجٹ کی منظوری سے قبل ہی   اشیائے خورد و نوش کی  قیمتوں اضافہ،منافع خور وں نے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا

datetime 14  جون‬‮  2019 |

فیصل آباد(آن لائن) وفاقی بجٹ 2019ء2020ء کی منظوری سے قبل ہی چینی سمیت دیگر  اشیائے خورد و نوش کی  قیمتوں اضافہ کا سلسلہ  شروع ہوگیا چینی کی قیمت  عام مارکیٹوں اور بازاروں میں 71روپے فی کلوگرام ہوگئی جبکہ گھی تیل سیگریٹ خشک دودھ پنیر،کریم اور اوردیگر  اشیائے خورد و نوش قیمتوں اضافہ کرکے منافع خور وں نے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا۔

آن لائن کے مطابق  چینی کے ذخائر میں اضافے کے باوجود قیمتوں میں مسلسل ایک ماہ سے اضافہ کا سلسلہ جاری تھا گذشتہ ماہ چینی کی 60 روپے فی کلوگرام تھی جس میں اب تک 11روپے فی کلوگرام اضافہ ہوچکے ہے۔جس کے بعد ابچینی کی قیمت  عام مارکیٹوں اور بازاروں میں 71روپے فی کلوگرام ہوگئیاور کئی علاقہ میں چینی غائب کرکے بحران پیدا کیا جارہا ہے  شوگر مافیا نے تمام احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھ لیا۔جبکہ عوام منصوعی مہنگائی کے خلاف پہلے ہی سراپا احتجاج، اور حکومت سے منافع خوروں کے خلاف  فوری کارروائی  کا مطالبہ کررہے ہیں، چینی کا شمار ان اشیا میں ہوتا ہے جو اشیائے خورد و نوش میں عام استعمال ہوتی ہے اور ہر خاص وعام کو چینی کی ضرورت پڑتی ہے لیکن شوگر ملز مافیا عام استعمال کی اس شے کو بھی عوام کی پہنچ سے باہر کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ چینی کے وافر ذخائر کی موجودگی اور شوگر ملز ورکنگ پوزیشن میں ہونے کے باوجود شوگر ملز مافیا نے چینی کی قیمتوں کمی نہیں ہونے دی اور تاحال چینی کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں حالانکہ شوگر ملز کے پاس چینی کا وافر سٹاک ہے۔ یہی شوگر ملز مافیا آئے روز اشتہارات کے ذریعے چینی برآمد کرنے کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالتا رہتا ہے لیکن عوام کو معمولی سا ریلیف دینے اور قیمتوں میں کمی کیلئے تیار نہیں۔ چینی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عام آدمی کے کچن کا بجٹ بری طرح متاثر ہوتا ہے جس سے انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے

جبکہ جن اشیاء کی تیاری میں چینی کا استعمال ہوتا ہے ان کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ اس صورت حال پر عوام نے شوگر ملز مافیا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے خلاف فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے اور حکومت کو چینی کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کی درخواست کی ہے تاکہ عوام کو لوٹنے والے اور ان کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے والوں کا کڑا احتساب ہو سکے اور عوام کی مالی مشکلات میں کمی ممکن ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…