جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

بجٹ الفاظ کا ہیر پھیرقرار،عام آدمی کو ریلیف نہیں مل سکتا،اسفند یار ولی نے بجٹ مسترد کردیا، دوٹوک اعلان

datetime 11  جون‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی نے موجودہ وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیاہے اور کہا ہے کہ حکومت سے ایسے بجٹ کی ہی توقع تھی، حکمرانوں کی غریب مکاؤ پالیسیوں نے تعلیم صحت اور روزمرہ استعمال کی اشیاء میں ہوشرباء اضافہ کر کے امیر طبقے کو ریلیف اور غریب آدمی کی مشکلات میں اضافہ کر کے گھر کا کچن چلانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بنا دیا ہے،پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے وفاقی بجٹ2019,20 پر

رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ کُلی طور پر آئی ایم ایف کا تیار کردہ ہے اور اس میں ایک بار پھر غریب عوام کو نشانہ بنایا گیا ہے،گوشت، مرغی، دالیں سبزیاں اورکھانے پینے کی تمام اشیاء غریب کی دسترس سے دور کر دی گئیں،بلواسطہ ٹیکسوں پر زیادہ انحصار کی پالیسی کے ذریعے متوسط طبقے اور غریب عوام پر تاریخ کا سب سے زیادہ بوجھ لاد دیا گیا،حکومت کے وسائل اپنے ہیں نہ پالیسیاں، بجٹ سے کشکول کا سائز مزید بڑا اور خودکشیوں میں اضافہ ہو گا،بجٹ میں غریب کو سستی روٹی،تعلیم،صحت دینے اور غیر ملکی قرضوں سے نجات کا کوئی ٹھوس پلان شامل نہیں، انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ مفروضوں پر مشتمل ہے اور موجودہ حکومت آئینی تقاضوں کو پورا نہیں کرسکی، بجٹ امیر دوست، مایوس کن اور مزدور کش ہے، اس بجٹ میں ملک کی غریب اور پسی ہوئی عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا، ٹیکسوں کی بھر مار کا سارا بو جھ غریب عوام پر پڑے گا اور اس سے مہنگائی کا ایک اور سیلاب آئے گا،چینی پر سیلز ٹیکس کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ کر کے حکومت نے اپنی نااہلی ثابت کر دی ہے، ملکی تاریخ میں کبھی چینی پر اتنا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، ملاز مین کی بنیادی تنخواہوں اور پنشن میں دس فیصد اضا فہ اْونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے، انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں الفاظ کے ہیر پھیرسے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی گئی،

یہ بجٹ وفاقی حکومت نے نہیں بلکہ حکمرانوں کو قرض دینے والے بیرونی اداروں نے تیار کیا ہے جبکہ حکومتی وزیر نے صرف اسے پڑھ کر سنانے کی رسم پوری کی ہے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ بجٹ میں عام ضروریات زندگی کی چیزیں مہنگی کردی گئیں جب تک ملک میں غیر ملکی آقاؤں کے اشاروں پر بجٹ بنتے رہیں گے عام آدمی کو ریلیف نہیں مل سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…