پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی افطار پارٹیوں تک پہنچ گئی، دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کردئیے

datetime 4  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی افطار پارٹیوں تک پہنچ گئی، دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو افطار ڈنر پر مدعو مہمانوں کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کردیے، تفصیلات کے مطابق پاکستان نے بھارت میں پاکستانی سفارت خانے میں افطار ڈنر کے موقع پر مہمانوں کو بھارتی ایجنسیوں کے اہلکاروں کی جانب سے ہراساں کرنے پر مذمت کرتے ہوئے بھارت کو احتجاجی مراسلہ بھیجا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق بھارت کے شہر نئی دہلی میں قائم

پاکستانی سفارت خانے میں 28 مئی کو ہائی کمشنر نے حسب روایت رمضان مبارک میں افطار ڈنر کا اہتمام کیا تھا، پاکستانی کی جانب سے جاری کیے جانے والے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ افطاری کے موقع پر بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں نے سفارتی آداب کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نا صرف پاکستانی ہائی کمیشن کا محاصرہ کیا بلکہ سفارت خانے کی دعوت پر افطاری کیلئے آنے والے مہمانوں کی تلاشی کے نام پر انہیں ہراساں کیا گیا۔پاکستان نے بھارت کے غیر سفارتی اقدام کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے یہ معاملہ سفارتی سطح پر اْٹھانے کا فیصلہ کیا اور بھارت کو ایک احتجاجی مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے افطار ڈنر کے شرکاء بالخصوص کشمیری مہمانوں کی عزت نفس کو مجروع کرتے ہوئے تلاشی لی، تصاویر اتاریں اور ہراساں کیا گیا۔مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے کشمیری مہمانوں کو افطار ڈنر میں شرکت کرنے پر گرفتار کرنے کی دھمکیاں بھی دیں، اس سے قبل 22 مارچ کو ہونے والی تقریب میں بھی بھارت کی جانب سے یہی رویہ اپنایا گیا اور اس وقت بھی احتجاج کیا گیا تھا۔پاکستان نے احتجاجی مراسلے میں موقف اختیار کیا کہ بھارت کا غیر سفارتی رویہ قابل مذمت اور ویانا کنونشن کی سراسر خلاف ورزی ہے، مراسلے میں بھارت سے اس قسم کے واقعات کے تدارک کے لیے

ٹھوس اقدامات اْٹھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں قائم بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بھی بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے افطاری ڈنر کے موقع پر مہمانوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ہراساں کیا گیا جن میں لاہور، کراچی اور دیگر شہروں سے آنے والے مہمانوں کے علاوہ پاکستان میں تعینات دیگر سفارتی مہمانوں کو ہراساں کرنے کی شکایت کی گئی ہے۔بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے مقامی ہوٹل میں بھارت کی جانب سے افطار ڈنر کا اہتمام کرنے پر پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے مہمانوں کو آنے سے روکا اور دیگر سفارت کاروں کو بھی ہراساں کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…