جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی افطار پارٹیوں تک پہنچ گئی، دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کردئیے

datetime 4  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی افطار پارٹیوں تک پہنچ گئی، دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو افطار ڈنر پر مدعو مہمانوں کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کردیے، تفصیلات کے مطابق پاکستان نے بھارت میں پاکستانی سفارت خانے میں افطار ڈنر کے موقع پر مہمانوں کو بھارتی ایجنسیوں کے اہلکاروں کی جانب سے ہراساں کرنے پر مذمت کرتے ہوئے بھارت کو احتجاجی مراسلہ بھیجا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق بھارت کے شہر نئی دہلی میں قائم

پاکستانی سفارت خانے میں 28 مئی کو ہائی کمشنر نے حسب روایت رمضان مبارک میں افطار ڈنر کا اہتمام کیا تھا، پاکستانی کی جانب سے جاری کیے جانے والے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ افطاری کے موقع پر بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں نے سفارتی آداب کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نا صرف پاکستانی ہائی کمیشن کا محاصرہ کیا بلکہ سفارت خانے کی دعوت پر افطاری کیلئے آنے والے مہمانوں کی تلاشی کے نام پر انہیں ہراساں کیا گیا۔پاکستان نے بھارت کے غیر سفارتی اقدام کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے یہ معاملہ سفارتی سطح پر اْٹھانے کا فیصلہ کیا اور بھارت کو ایک احتجاجی مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے افطار ڈنر کے شرکاء بالخصوص کشمیری مہمانوں کی عزت نفس کو مجروع کرتے ہوئے تلاشی لی، تصاویر اتاریں اور ہراساں کیا گیا۔مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے کشمیری مہمانوں کو افطار ڈنر میں شرکت کرنے پر گرفتار کرنے کی دھمکیاں بھی دیں، اس سے قبل 22 مارچ کو ہونے والی تقریب میں بھی بھارت کی جانب سے یہی رویہ اپنایا گیا اور اس وقت بھی احتجاج کیا گیا تھا۔پاکستان نے احتجاجی مراسلے میں موقف اختیار کیا کہ بھارت کا غیر سفارتی رویہ قابل مذمت اور ویانا کنونشن کی سراسر خلاف ورزی ہے، مراسلے میں بھارت سے اس قسم کے واقعات کے تدارک کے لیے

ٹھوس اقدامات اْٹھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں قائم بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بھی بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے افطاری ڈنر کے موقع پر مہمانوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ہراساں کیا گیا جن میں لاہور، کراچی اور دیگر شہروں سے آنے والے مہمانوں کے علاوہ پاکستان میں تعینات دیگر سفارتی مہمانوں کو ہراساں کرنے کی شکایت کی گئی ہے۔بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے مقامی ہوٹل میں بھارت کی جانب سے افطار ڈنر کا اہتمام کرنے پر پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے مہمانوں کو آنے سے روکا اور دیگر سفارت کاروں کو بھی ہراساں کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…