جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

ایک کھرب کا اضافی ٹیکس ۔۔۔ہرپاکستانی خاندان پر 47کتنا بوجھ پڑے گا؟ ماہر معاشیات ڈاکٹر فرخ سلیم کا اہم انکشاف

datetime 2  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں میں سیاست کا بڑا اہم کردار ہے، اس کے مالکان کا سیاسی ایجنڈا ہوتا ہے، امریکہ کے پاس ووٹ کی صورت میں بہت بڑی طاقت ہوتی ہے، یہ ہر ملک میں یہ کہہ کر جاتے ہیں کہ ہمیں معیشت بچانی ہے تاہم 73 سالوں میں ان کے پاس کامیابی کی ایک کہانی بھی نہیں ہے۔ایک انٹرویومیں انہوں نے وکی لیکس کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو امریکی فوج بطور معاشی اسلحہ استعمال کرتی ہے کیونکہ اب ہتھیار بدل گئے ہیں جبکہ جنگیں جاری ہیں، امریکہ ان مالیاتی اداروں کو استعمال کرتا ہے اور اب ہمارے پاس آئی ایم ایف کی شرائط ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ ہماری حالت ہی اتنی کمزور تھی۔انہوں نے کہاکہ معیشت کے اندر آگ ہم نے خود لگائی ہے، ہماری پالیسیوں سے لگی ہے، عالمی مالیاتی ادارے اس پر تیل چھڑکنے کیلئے آرہے ہیں، اگر ہمارا تجارتی خسارہ کم ہوتا تو شرائط بھی آسان ہوتیں۔ انہوں نے کہاکہ بنیادی ذمہ داری حکومتوں کی ہے جنہوں نے ملک کے معاشی حالات خراب کیے۔ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جو دنیا میں کہتا ہے کہ عوام ٹیکس چور ہیں حالانکہ عوام بھاری ٹیکس دیتے ہیں۔ جب بھی حکومت ٹیکس ریٹ بڑھاتی ہے تو معیشت کی رفتار سست ہوجاتی ہے، عوام ٹیکس دے کر خزانے بھرتے ہیں جنہیں حکمران خالی کردیتے ہیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک کھرب کے اضافی ٹیکس کا مطلب ہے کہ ہرپاکستانی خاندان پر 47 ہزار روپے کا بوجھ بڑھے گا، کمپنیوں کے منافع میں کمی آئیگی، معیشت کی رفتار سست ہوگی تو بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔فرخ سلیم نے کہا کہ 37 سالوں میں 21 ممالک کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بجٹ خسارے میں کمی کیے بغیر ٹیکس بڑھانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ خسارے میں کمی کے لیے اخراجات میں کمی لانا ہوگی اور گیس چوری کو روکنا ہوگا۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…