بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

عارف علوی نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس پر بطور صدر دستخط کئے،وہ پہلے ان کے بارے میں کیا کہتے تھے؟جسٹس فائز عیسیٰ ایماندار نہیں رہے‘ آخر ہوا کیا ہے؟ حکومت نے اپنے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کا فیصلہ کر لیا،جاوید چودھری کے انکشافات،بڑی پیش گوئی کردی‎

datetime 30  مئی‬‮  2019 |

وقت کتنا بے رحم ہوتا ہے‘ آپ اس کا اندازہ جسٹس فائز عیسی سے لگا لیجئے‘ جنوری 2013ء میں بلوچستان میں گورنر راج لگانے کی باتیں ہو رہی تھیں‘ اس وقت جسٹس فائز عیسیٰ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے‘ آج کے صدر عارف علوی اور وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اس وقت تحریک انصاف کے رہنما تھے‘ عارف علوی نے 14جنوری 2013ء کو ٹویٹ کی تھی‘کیا بلوچستان میں ایک دیانت دار گورنر راج نہیں ہونا چاہیے؟

کیا میں قاضی فائز عیسیٰ‘ جو بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں کا نام گورنر بلوچستان کے طور پر پیش کر سکتا ہوں؟ جبکہ شیریں مزاری کا کہنا تھا‘ایسا ضرور ہونا چاہیے لیکن سیاسی عہدوں کے لیے مضبوط‘ دیانت دار اور سینئر ججز کو ہٹانے کی ضرورت کیوں ہے؟ ہمیں ضرورت ہے کہ وہ عدلیہ کو‘ خصوصاً اب مضبوط کریں لیکن آپ وقت کا ستم دیکھئے کل اسی عارف علوی نے اسی ایماندار جج جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس پر بطور صدر دستخط کئے‘ کیا عارف علوی بدل گئے ہیں یا پھر جسٹس فائز عیسیٰ ایماندار نہیں رہے‘ آخر ہوا کیا ہے؟ میرا خیال ہے حکومت نے اپنے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کا فیصلہ کر لیا ہے‘ حکومت کے خلاف ہر محاذ گرم ہے‘ تاجر‘ صنعت کار اور بزنس مین ناراض ہیں‘ ملازم پیشہ لوگ بھی رو رہے ہیں‘ پیپلز پارٹی اور ن لیگ عید کے بعد تحریک چلا رہی ہیں‘ خارجہ پالیسی بھی دباؤ میں ہے اور داخلی معاملات بھی خراب ہیں‘ صرف جوڈیشری بچی تھی اور حکومت نے یہ محاذ بھی گرم کر دیا‘حکومت چار ججز کے خلاف ریفرنس دائر کر رہی ہے‘ وکلاء برادری تیزی سے ججز کے ساتھ کھڑی ہو رہی ہے‘ سوال یہ ہے اگر کالے کوٹ ایک بار پھر باہر آ گئے تو حکومت کا کیا بنے گا کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا مقابلہ جنرل پرویز مشرف یونیفارم میں بھی نہیں کر سکے تھے‘ کیا حکومت کو حالات کی نزاکت کا اندازہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…