بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

اثاثوں کی معلومات میں تضادات ،الیکشن کمیشن کا 7 وفاقی وزرا سمیت 91 اراکین اسمبلی کو نوٹس

datetime 30  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(اے این این ) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے موجودہ مالی سال کے لیے اراکین قومی اسمبلی کے اثاثہ جات اور واجبات سے متعلق فراہم کی گئی معلومات میں تضاد کی وضاحت کے لیے وفاقی کابینہ کے 7 اراکین سمیت 91 اراکین اسمبلی کو نوٹس جاری کردیا۔ای سی پی کی جانب سے قومی اسمبلی کے اراکین کے اثاثہ جات اور واجبات کا آڈٹ جاری ہے۔

الیکشن کمیشن نے 342 اراکین قومی اسمبلی میں سے 132 کو کلیئر قرار دے دیا، 69 اراکین کے کیسز زیر غور ہیں جبکہ 50 کی جانچ بعد میں کی جائے گی۔جن 91 قانون سازوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں ان میں سے اب تک صرف 17 اراکین کی جانب سے جواب جمع کروائے گئے ہیں جن میں غلام سرور خان، شیخ رشید احمد، فیصل واوڈا اور عمر ایوب خان شامل ہیں جبکہ وزیر دفاع پرویز خٹک، زبیدہ جلال اور وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے جواب جمع نہیں کروایا۔جن دیگر اراکین کی جانب سے نوٹس کا جواب دیا گیا ہے ان میں سلیم رحمن، محمد نواز خان، عامر حیدر اعظم خان، محمد اقبال خان، ریٹائرڈ میجر طاہر صادق، منصور حیات خان، احسان اللہ تیوانہ، راجا ریاض احمد، جنید انور چوہدری، سید مرتضی محمد، آفتاب شبین میرانی، عبدالشکور شاد اور شاہ زین بگٹی شامل ہیں۔اس کے ساتھ ہی جن اراکین نے اب تک جواب جمع نہیں کروایا ان میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین حسین قریشی، سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ، قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری، عمران خٹک، خواجہ سعد رفیق، پرویز خٹک کے بھتیجے اور داماد، مولانا اکبر چترالی، صالح محمد، نور عالم خان، سابق وزیر دفاع خرم دستگیر خان، علی حیدر خان ،علی خان جدون، انور تاج، نور عالم خان، ارباب عامر ایوب، زاہد اکرم درانی، ذوالفقار علی خان، فرخ الطاف، مہناز اکبر عزیز، محمود بشیر ورک، عثمان ابراہیم، ذوالفقار احمد، امتیاز چوہدری، قیصر احمد شیخ، عاصم نظیر، فیض اللہ، اعجاز احمدد شاہ، جاوید لطیف، علی شریف خان، افتخار نظیر، ابراہیم خان، محمد شفیق، عبدالغفار وٹو، عالم داد لالیکا، مبین احمد، مصطفی محمود، عامر طلال خان، عبدالمجید خان، خواجہ شیراز محمود، خالد احمد، احسان الرحمن مزاریں، جاوید علی شاہ، علی نواز شاہ، نور محمد شاہ جیلانی، میر غلام علی تالپور، سکندر علی راہو پوتو، عبدالکریم بجار، اسلم خان، نجیب ہارون، محمد ہاشم اور جے پرکاش شامل ہیں۔جن خواتین اراکین نے ای سی پی کے نوٹس کا جواب نہیں دیا ان میں حنا ربانی کھر، مہرین رزاق بھٹو، کنول شوزب، شائستہ پرویز، ثمینہ مطلوب، عالیہ حمزہ ملک، شمیم آرا پنہوار، نصرت واحد، سائرہ بانو، شہناز نصیر بلوچ اور منورہ بی بی بلوچ شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…