جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

بڑے شہرمیں مبینہ طور پر توہینِ مذہب پر ڈاکٹر گرفتار،اہلِ علاقہ نے اشتعال میں ڈاکٹر کے بھائی کی دوکان کو آگ لگا دی،صورتحال کشیدہ

datetime 28  مئی‬‮  2019 |

میرپور خاص(آن لائن) میرپور خاص میں پولیس نے ویٹرنری ڈاکٹر کے خلاف توہینِ مذہب کیس میں گرفتار کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مقامی مقامی عالم دین نے ڈاکٹر کے خلاف میرپور خاص تھانے میں شکایت درج کروائی تھی۔ میرپورخاص کے پھلاڈیون کے علاقے میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ویٹرنری ڈاکٹر پر ایک شہری نے الزام لگایا تھا کہ ڈاکٹر نے ان کے مویشیوں کے لیے دوائی ایک صفحے میں لپیٹ کردی تھی

جس میں آیاتِ کریمہ درج تھیں۔ڈی آئی جی میر پورخاص ثاقب اسمٰعیل میمن نے کہا ہے کہ ڈاکٹر سے دوائی لینے والے شہری نے مقامی عالم محمد اسحٰق نوہری کواس تمام صورت حال سے آگاہ کیا جس پر انہوں نے سندھڑی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرادی۔ پولیس نے بیان میں کہا ہے کہ محمد اسحٰق نوہری نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ویٹرنری کلینک میں اسلامی کتاب کے صفحات دیکھے ہیں جن کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ڈی آئی جی میرپورخاص کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ویٹرنری ڈاکٹر کے خلاف تعزیرات پاکستان کے سیکشن 295 اے اور 295 بی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ میرپورخاص سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واوع وصبے میں جس کی آبادی تقریباً 6 ہزار سے 7 ہزار نفوس پر مشتمل ہے میں یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ ڈی آئی جی ثاقب اسمٰعیل میمن کے مطابق علاقے میں اس خبر کے پھیلتے ہی ہنگامے پھوٹ پڑے جبکہ ایک ہجوم نے ڈاکٹر کے کلینک ان کے بھائی کی چھوٹی سی دکان اور موٹرسائیکل کو نذر آتش کردیا۔ڈی آئی جی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ مشتعل افراد نے پولیس اسٹیشن پر بھی حملہ کرنے کی کوشش کی اور دروازے کو نقصان پہنچایا جس کے بعد کشیدگی پھیلانے اور املاک کو نقصان پہنچانے والے 6 مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لے لیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ویٹرنر ی ڈاکٹر کو حراست میں لیا گیا ہے

کیونکہ مظاہرین کی جانب سے اسے نقصان پہنچائے جانے کا خدشہ تھا جبکہ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ یہ سب غلطی سے ہوا۔ایس ایچ اومیرپور خاص کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کے کلینک پر حملہ کرنے والے افراد نہ تو اسلام سے محبت کرنے والے ہیں اور نہ ہی ان کے ہمسایہ ہیں بلکہ یہ حالات سے فائدہ اٹھانے والے لوگ ہیں۔ ڈی آئی جی میرپورخاص کا کہنا ہے کہ مشتعل افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی شق 6 اور 7 اور تعزیرات پاکستان کے سیکشن 395، 506، 147، 148، 149، 436، 427، 324، 353، 147، 148، 149 اور 504 کے تحت مقدمہ درج کردیا گیا ہے۔انسانی حقوق کا تحفظ کرنے والی تنظیم کے ایک کارکن کے مطابق ڈاکٹر کے اہل خانہ خود کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں، انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ عالم دین نے مسجد میں مقامی مسلمانوں کو ڈاکٹر کے خلاف اشتعال دلایا۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…