بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

جن لوگوں کو غدار قرار دیا گیا تو کیا پھر ووٹ دینے والے عوام بھی غدا ہیں ہے؟،تحریک انصاف والے بھی تیاری کریں، اب ان کے ساتھ کیا ہوگا؟اختر مینگل نے دوٹوک اعلان کردیا

datetime 28  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) بی این پی کے سربراہ اختر مینگل نے کہا ہے کہ جن لوگوں کو غدار قرار دیا گیا تو کیا پھر ووٹ دینے والے عوام بھی غدا ہیں ہے؟ عجیب تماشا ہے جب حکومت میں ہوتے ہیں تو وفادار اور جب اپوزیشن میں بیٹھیں گے تو غدار، تحریک انصاف والے بھی تیاری کریں، یہ الزامات کل پی ٹی آئی پر بھی لگیں گے،جب ایٹمی دھماکے کئے گئے مجھے بطور وزیراعلی بلوچستان اعتماد میں نہیں لیا گیا، چاغی عوام پینے کے پانی تک سے محروم ہیں، چاغی کے لوگوں کو

ایک ڈسپنسری تک میسر نہیں، احساس محرومی اب بلوچستان سے نکل کر دیگر خطوں میں بڑھ رہا ہے، پاکستان جن وجوہات پر دو لخت ہوا آج پھر اسی کی تلواریں لٹک رہی ہیں،بلوچستان میں پہلے نوجوان اٹھائے جاتے تھے اب بزرگ، خواتین اور بچوں کو بھی اٹھایا جارہا ہے، وہ دہشت گرد بنتے ہیں جن کے گھر نہیں رہتے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں بی این پی سربراہ اختر مینگل نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ روز چیئرمین نیب اور وزیرستان کے ایشو پر جس سنجیدگی کی ضرورت تھی وہ اختیار نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ 28 مئی کو ہرسال تقاریر ہوتی ہیں، جب ایٹمی دھماکے کئے گئے مجھے بطور وزیراعلی بلوچستان اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ اسی احتجاج کے باعث مجھے اپنی وزرات اعلیٰ سے ہاتھ دھونا پڑے، اس غلطی کا اعتراف بعد ازاں وزیراعظم نواز شریف انٹرویوز میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ چاغی کے نمونے پورے ملک میں سجائے گئے مگر کیا ان دھماکوں کے بعد کسی نے اس علاقے کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ وہاں قدرتی آفات کے ساتھ سرکاری آفات بھی آئیں، وہاں سیلاب آیا، کینسر پھیلا،کسی نے چاغی کی عوام کی بات آج تک نہیں کی، جو پینے کے پانی تک سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چاغی کے لوگوں کو ایک ڈسپنسری تک میسر نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ احساس محرومی اب بلوچستان سے نکل کر دیگر خطوں میں بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ 1948ء میں کشمیر کے حصول کیلئے انہی قبائل کے ذریعے حاصل کیا گیا جنہیں آج غدار قرار دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے بانی فاطمہ جناح کو کیا ملک دشمن قرار نہیں دیا گیا، یہ ایک لمبی فہرست ہے۔ انہوں نے کہاکہ باچا خان، ولی خان، غوث بخش بزنجو، عطاء اللہ مینگل، ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف، بے نظیر بھٹو، الطاف بھی غدار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جن لوگوں کو غدار قرار دیا گیا تو کیا پھر ووٹ دینے والے عوام بھی غدار ہیں؟۔ انہوں نے کہاکہ عجیب تماشا ہے کہ

جب حکومت میں ہوتے ہیں تو وفادار لیکن اپوزیشن میں بیٹھیں گے تو غدار۔ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف والے بھی تیاری کریں، یہ الزام کل پی ٹی آئی پر بھی لگیں گے کیونکہ فاصلہ بہت کم ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان جن وجوہات پر دو لخت ہوا آج پھر اسی کی تلواریں لٹک رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گھڑی کا کانٹا ہم پر چانٹے کی صورت میں پڑا تو سب خاموش رہے، آج وہی چانٹا وزیرستان کو لگ رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ تبدیلی واقعی آگئی

ہے، بلوچستان میں پہلے نوجوان اٹھائے جاتے تھے اب بزرگ، خواتین اور بچوں کو بھی اٹھایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ دہشت گرد بنتے ہیں جن کے گھر نہیں رہتے۔ انہوں نے کہاکہ آپ کو سب کے ساتھ شفقت کے ساتھ پیش آنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان کی جنگ میں کس کو فائدہ ہوا، کون ارب پتی بنا؟۔ انہوں نے کہاکہ گوادر، چاغی اور ریکوڈک کا نام لیتے ہیں مگر جیسے ہی استعمال کرلیتے ہیں ٹشو پیپرز کی طرح پھینک دیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چیئرمین نیب کے معاملے پر بات اس لئے نہیں کروں گا کہیں رمضان میں کسی کا روزہ مکروہ نہ ہوجائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…