جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

نیب چیئرمین کو بلیک میل کرنے والے فاروق نول کا تعلق جھنگ سے ہے،کس چیز کا دھندہ کرتارہا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 24  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو جنسی سکینڈل میں پھنسانے والے فاروق نول کا تعلق پنجاب کے ضلع جھنگ سے ہے جس کی تعلیم میٹرک ہے۔ جنسی سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد فاروق نول کی شہرت پوری دنیا میں پھیل گئی ہے تاہم اس کے خاندان جو جھنگ کے گرد نواح میں رہائش پذیر ہے نے اس سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔ جھنگ میں نول خاندان ہمیشہ سے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے،

پورے ضلع میں جرائم کے لحاظ سے تھانہ موچی والا جہاں فاروق نول کا تعلق ہے سرفہرست ہے۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد فاروق نول نے مجرمانہ زندگی شروع کی اور اپنی سرگرمیوں کا مرکز اسلام آباد منتقل کیا، فاروق نول اسلام آباد اور راولپنڈی میں گزشتہ پندرہ سال سے مقیم ہے اور درجنوں ماڈل گرلز کے تعلقات استوار کر رکھے ہیں ابتدا میں لڑکیوں کو ماڈل گرلز بنانے کے لئے اخبارات میں انٹرویو چھاپتا تھا بعد میں انہیں اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا اس کا مشغلہ تھا اس کی رہائش پاک پی ڈبلیو ڈی کالونی اسلام آباد تھی جہاں اس نے ایک خاتون پولیس افسر کی کوٹھی پر قبضہ کر رکھا ہے، فاروق نول کے خاندان کے اہم افراد میں پارلیمنٹ انسٹیٹیوٹ کے سابق ڈائریکٹر ظفر اللہ خان بھی جن کا رضا ربانی اور آصف زرداری سے بے تکلفانہ  تعلق ہے، فاروق نول کا ایک قریبی رشتہ دار پروفیسر ملا خان حیدری بھی ہے جو جھنگ میں لوگوں کو جعلی ڈگریاں بنوا کر دینے کا دھندا کرتا ہے،پروفیسر ملا خان حیدری امراء طبقہ کے نالائق نوجوانوذں کو بی اے اور ایم اے کے امتحانات میں پاس کرانا بھی مشغلہ ہے، یہ مجرم پروفیسر آج کل ڈائریکٹر کالج سرگودھا ہے جھنگ کے ابتدائی مالک نول خاندان تھا جس کو سیال خاندان نے شکست دے کر شہر میں قبضہ  کیا تھا اب نول خاندان جھنگ شہر کے گرد نواح کے گاؤں دیہاتوں میں رہائش پذیر ہے، فاروق نول بنیادی طو رپر غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور غربت مٹانے کے لئے اس نے مکروہ دھندا شروع کر رکھا ہے اور کروڑوں روپے کمائے ہیں لیکن اس کے گھر کی حالت اب بھی وہی ہے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…