بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

یہ لوگ پشتون نہیں، افغانیوں سے جان چھڑاؤ، ملک بچاؤ، پاکستان میں بڑے پیمانے پر مہم شروع ہو گئی

datetime 23  مئی‬‮  2019 |

پشاور (نیوز ڈیسک) یہ لوگ پشتون نہیں، افغانیوں سے جان چھڑاؤ، ملک بچاؤ، پاکستان میں افغانیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم کا آغاز ہو گیا۔ پاکستانی عوام نے دس سالہ فرشتہ کے قتل کیس پر حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں کو ناکام بنا دیا اور اسی کے تحت افغان شہریوں کو واپس ان کے ملک بھیجنے کا مطالبے کا آغاز سوشل میڈیا پر کر دیا گیا ہے، نہ صرف اس مہم کا آغاز ہوا بلکہ ٹوئٹر پر ”افغانی بھگاؤ، ملک بچاؤ“ ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک صارف منیر خٹک نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانیوں کو ان کے وطن واپس بھیجا جائے، یہ لوگ پشتون نہیں بلکہ پشتونوں کے روپ میں ایجنٹس ہیں۔پختون اپنے ملک کے غدار کبھی نہیں ہو سکتے۔ ایک اور صارف مینال خان نے کہا کہ یہ افغانی انڈیا کے ایجنٹ ہیں، ایک اور صارف نے کہا کہ پاکستان صرف پاکستانیوں کا ہے، افغانیوں کویہاں سے باہر نکال کر پاکستان کو صاف کیا جائے۔ ایک صارف راؤ عبدالرحمان نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ ہم پاکستان آرمی کی حمایت کریں اور ایسے تمام پی ٹی ایم والوں کو ملک سے باہر نکال د یں جو پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ جغرافیہ بدلتا ہے، قومیں نہیں بدلتیں، میں افغان تھا، افغان ہوں اور افغان رہوں گا۔ واضح رہے کہ پی ٹی ایم کی گلالئی اسماعیل کے خلاف درج ایف آیی آر میں کہا گیا ہے کہ تھانہ شہزاد ٹاون کی حدود میں 10سالہ معصوم بچی فرشتہ کے ساتھ اندوہناک واقعہ پیش آیا، لوگوں نے لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج شروع کیا تو لوگوں کے جذبات کو دیکھ کر پی ٹی ایم کی خاتون کارکن گلالئی اسماعیل ادھر پہنچی اور اس نے نے اپنے تئیں تقریر کی، اس دوران پشتونوں کے دلوں میں ریاست کے خلاف لسانی بنیادوں پر نفرت انگیز تقریر کر کے تشدد اور بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی گئی، ایف آئی آر کے متن کے مطابق مذکورہ خاتون کی تقریر کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا، نسلی اور لسانی بنیادوں پر لوگوں کے جذبات کو حکومت پاکستان،اداروں اور شہریوں کے خلاف بھڑکانے مزید برآں دیگر شہروں میں اس کے باعث خوف و ہراس پھیلانے پر تفتیش کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ مقدمہ 124اے، 153اے، اور 500 کے تحت درج کیا گیا۔ واضح رہے کہ 124 اے کے تحت کم از کم سزا تین سال قید ہے جبکہ آیین کی دفعہ 500 کے تحت ہتک عزت کی کم از کم سزا 5 سال قید ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…