بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

سعودی عرب میں غیر ملکی کارکنوں کے لیے ویزوں میں 72 فیصد کمی

datetime 22  مئی‬‮  2019 |

ریاض (این این آئی)سعودی عرب کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس غیر ملکی کارکنوں کے لیے ویزوں کی شرح میں 72.6 فیصد کمی کی گئی ہے۔ سعودی وزارت محنت وسماجی فروغ کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال جاری ہونے والے ورک ویزوں کی تعداد 5 لاکھ 57 ہزار تین سو 25 تھی جبکہ اس کے مقابلے میں معاشی بحران سے قبل

سنہ 2015 میں جاری ہونے والے ورک ویزوں کی تعداد 20 لاکھ 31 ہزار 2 سو اکیانوے رہی۔قبل ازیں رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ گذشتہ دو برسوں میں سعودی لیبر مارکیٹ سے 16 لاکھ غیر ملکی نکل گئے ہیں ۔ وطن واپس جانے والوں میں انڈین پہلے جبکہ پاکستانی دوسرے نمبر پر ہیں۔وطن واپس جانے والے ان غیرملکیوں کی وجہ سے سب سے زیادہ تعمیرات کا شعبہ متاثر ہوا ہے جبکہ گذشتہ برس سب سے زیادہ نئے ویزے بھی تعمیرات کے شعبے میں کام کرنے والے کارکنوں کو جاری کیے گئے۔ ان تمام حقائق اور مسائل کے باوجود سعودی عرب آج بھی غیر ملکی کارکنوں کے پسندیدہ ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔مقامی اخبار میں جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے تحت ہونے والے سروے میں 10 ملین افراد سے ملازمت کے لیے پسندیدہ ممالک کے متعلق رائے پوچھی گئی تھی۔ سروے کے مطابق دنیا بھر کے ورکرز کے نزدیک امریکہ پسندیدہ ممالک کی فہرست میں پہلے جبکہ روس نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اسی طرح سعودی عرب کارکنوں کے لیے پسندیدہ ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر رہا۔غیر ملکیوں پر عائد فیس کے علاوہ ان کے ہمراہ رہنے والے اہل خانہ میں سے ہر ایک فرد پر ماہانہ فیس مقرر کرنے کی وجہ سے نہ صرف لیبر مارکیٹ متاثر ہوئی بلکہ مجموعی معیشت پر اس کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔ نئے ویزوں کے اجرا میں کمی کے علاوہ لیبر مارکیٹ سے بڑی تعداد میں پاکستانیوں سمیت غیر ملکیوں کا نکل جانا اس کی بڑی وجہ ہیں۔ جدہ، ریاض اور دمام سمیت بڑے شہروں میں پاکستانی علاقوں میں گھروں کے کرایوں میں کمی اور ہر عمارت میں کرایہ پر دستیاب اپارٹمنٹ کے بورڈ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہاں سے بڑی تعداد میں لوگ جا چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…