جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

عمران خان ایک بھینس فروخت کرنے کوبھی بچت سمجھتے ہیں۔۔۔!!! ڈالر کنٹرول کیسے کیا جائے؟حکومت کو آسان اور مفت مشورہ دیدیا گیا

datetime 19  مئی‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینئررہنما اورسابق گورنرسندھ ڈاکٹر محمد زبیر نے کہا ہے کہ عمران خان ایک بھینس فروخت کرنے کوبھی بچت سمجھتے ہیں، حکومت کو معاشی مسائل سے نکلنے کے لیے اخراجات کم کرنے چاہئیں لیکن اس کی رنگ رلیوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔

خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان نے گزشتہ 30 ماہ میں32 ارب ڈالر مارکیٹ میں پھینکے تاکہ روپے کی قیمت برقرار رہے۔ ڈالر کو اس طرح نہیں روکا جاتا اس کی قیمت قابو میں رکھنے کا ایک ہی طریقہ حکومتی اخراجات میں کمی ہے۔انہوں نے کہاکہ صرف امریکہ میں ڈالر کی قیمت حکومت کنٹرول نہیں کرتی باقی ہر جگہ اسے حکومتی ادارے ہی طے کرتے ہیں۔ حکومت نے آئی ایم ایف سے پیکیج لینے کے بعد جو راستہ اختیار کیا وہ ملک اور قوم کے لیے مضر ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا لیکن درآمدات کم ہوئی ہیں۔ حکومت درآمدات کو بھی ایک حد سے زیادہ کم نہیں کر سکتی۔محمدزبیرنے کہا کہ حکومت بجٹ سے پہلے اپنے اخراجات کم کرے، اگر ایسا نہ ہوا تو روپے پر دبائو برقرار رہے گا۔ اس وقت مارکیٹ میں عدم توازن بڑھ گیا ہے لیکن آپ اسے روک بھی نہیں سکتے۔شرح سود میں اضافے کے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ مسائل کا حل نہیں بلکہ مسائل میں مزید اضافے کا سبب بنے گا اور کاروباری سرگرمیاں مزید کم ہو جائیں گی۔سابق گورنرسندھ نے کہاکہ35 لاکھ ملازمین کی تنخواہیں دو بار دگنی کی گئی ہیں اور تقریبا 3.5 لاکھ سرکاری ایئرکنڈیشنز چلتے ہیں، ان لوگوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…