منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

شیخ رشید کیخلاف توہین عدالت کیس،پنجاب حکومت کیا قبضہ گروپ بن گئی؟حکمنامہ تھا کوئی قبضہ نہیں کریگا، سپریم کورٹ شدید برہم

datetime 14  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ میں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر کہاہے کہ پنجاب حکومت کیا قبضہ گروپ بن گئی ہے؟حکمنامہ تھا کوئی قبضہ نہیں کریگا، دیواریں گرا دی گئیں اور درخت کاٹ دئیے گئے ہمیں دو حکم امتناع دینے کی ضرورت نہیں ۔

اس حکمنامے پر عمل یقینی بنائیں جبکہ عدالت عظمیٰ نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو کل بدھ کو طلب کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل پنجاب کو 24 گھنٹے میں ہدایات لینے کا حکم دیا ہے ۔ منگل کو سپریم کورٹ میں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔ دور ان سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ پنجاب حکومت کیا قبضہ گروپ بن گئی ہے؟حکمنامہ تھا کہ کوئی قبضہ نہیں کریگا۔ انہوں نے کہاکہ وہاں دیواریں گرا دی گئیں اور درخت کاٹ دئیے گئے۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ 24 گھنٹے میں اس حوالے سے ہدایات لیں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں دو حکم امتناع دینے کی ضرورت نہیں،اس حکمنامے پر عمل یقینی بنائیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دیوار گرنے سے گرلز گائیڈ کی عمارت عیاں ہوگئی ہے،گرلز گائیڈ کی عمارت میں بچیاں ہیں اور انکی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ہمارے حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں،ہمارے حفاظت کیلئے پھر کسی اور کو کہنا پڑیگا۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہاکہ امید ہے بات یہاں تک نہیں پہنچے گی۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے از راہ تفنن ریمارکس دیئے کہ بات نکلے گی تو بہت دور تک جائیگی۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہاکہ جو بھی نقصان ہوا آج سے اس کی مرمت شروع کرا دیں گے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ ایک گھنٹے کیلئے جانا تھا اس کیلئے درخت کاٹ دئیے گئے،وہاں اور کچھ بھی جاتا ہے ایک فیتہ کاٹنا تھا جس کیلئے درخت کاٹ دئیے گئے۔ عدالت عظمیٰ نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو کل بدھ کو طلب کر لیا اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل پنجاب کو 24 گھنٹے میں ہدایات لینے کا حکم دیا ۔بعد ازاں کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…