پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

اہم یورپی ملک میں مذہبی اداروں کے غیر ملکی عطیات کے توڑ کے لیے چرچ ٹیکس کے مشابہ مسجد ٹیکس لگانے کی تیاریاں 

datetime 13  مئی‬‮  2019 |

برلن(این این آئی)جرمنی میں اسلامی اداروں کے غیرملکی عطیات پر انحصار کم کرنے کے لیے مسجد ٹیکس لگانے پر غور کیا جارہا ہے اور ملک کی بیشتر ریاستوں نے اس ٹیکس کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وفاقی حکومت نے پارلیمان میں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ یہ (ٹیکس) ایک ممکنہ راستہ ہے،

یہ ٹیکس بھی جرمنی کے عیسائیوں پر عاید کردہ چرچ ٹیکس کے مشابہ ہوگا اور سولہ ریاستوں میں سے بیشتر نے اصولی طور پر اس کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔جرمنی میں مساجد کے لیے غیرملکی رقوم اور عطیات کے حوالے سے خاصی تشویش پائی جاتی ہے اور انھیں ملک کی قریباً پچاس لاکھ مسلم آبادی پر ا ثر انداز ہونے کا ایک ذریعہ خیال کیا جاتا ہے۔جرمنی میں زیادہ تر ترک اور عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن آباد ہیں۔جرمنی میں قریباً 900 مساجد ترکی کی اسلامی یونین برائے مذہبی ادارہ کے زیر انتظام ہیں۔ یہ ادارہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے تحت کام کرتا ہے۔ان مساجد کے ائمہ کو ترک ریاست تن خواہیں ادا کرتی ہے لیکن اس اسلامی یونین کے بعض ارکان کے بارے میں یہ شْبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ جرمنی میں مقیم ترک حکومت کے مخالفین کی جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوّث ہیں۔ جرمنی میں اسلامی اداروں کے غیرملکی عطیات پر انحصار کم کرنے کے لیے مسجد ٹیکس لگانے پر غور کیا جارہا ہے اور ملک کی بیشتر ریاستوں نے اس ٹیکس کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وفاقی حکومت نے پارلیمان میں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ یہ (ٹیکس) ایک ممکنہ راستہ ہے، یہ ٹیکس بھی جرمنی کے عیسائیوں پر عاید کردہ چرچ ٹیکس کے مشابہ ہوگا اور سولہ ریاستوں میں سے بیشتر نے اصولی طور پر اس کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…