منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

اہم یورپی ملک میں مذہبی اداروں کے غیر ملکی عطیات کے توڑ کے لیے چرچ ٹیکس کے مشابہ مسجد ٹیکس لگانے کی تیاریاں 

datetime 13  مئی‬‮  2019 |

برلن(این این آئی)جرمنی میں اسلامی اداروں کے غیرملکی عطیات پر انحصار کم کرنے کے لیے مسجد ٹیکس لگانے پر غور کیا جارہا ہے اور ملک کی بیشتر ریاستوں نے اس ٹیکس کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وفاقی حکومت نے پارلیمان میں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ یہ (ٹیکس) ایک ممکنہ راستہ ہے،

یہ ٹیکس بھی جرمنی کے عیسائیوں پر عاید کردہ چرچ ٹیکس کے مشابہ ہوگا اور سولہ ریاستوں میں سے بیشتر نے اصولی طور پر اس کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔جرمنی میں مساجد کے لیے غیرملکی رقوم اور عطیات کے حوالے سے خاصی تشویش پائی جاتی ہے اور انھیں ملک کی قریباً پچاس لاکھ مسلم آبادی پر ا ثر انداز ہونے کا ایک ذریعہ خیال کیا جاتا ہے۔جرمنی میں زیادہ تر ترک اور عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن آباد ہیں۔جرمنی میں قریباً 900 مساجد ترکی کی اسلامی یونین برائے مذہبی ادارہ کے زیر انتظام ہیں۔ یہ ادارہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے تحت کام کرتا ہے۔ان مساجد کے ائمہ کو ترک ریاست تن خواہیں ادا کرتی ہے لیکن اس اسلامی یونین کے بعض ارکان کے بارے میں یہ شْبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ جرمنی میں مقیم ترک حکومت کے مخالفین کی جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوّث ہیں۔ جرمنی میں اسلامی اداروں کے غیرملکی عطیات پر انحصار کم کرنے کے لیے مسجد ٹیکس لگانے پر غور کیا جارہا ہے اور ملک کی بیشتر ریاستوں نے اس ٹیکس کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وفاقی حکومت نے پارلیمان میں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ یہ (ٹیکس) ایک ممکنہ راستہ ہے، یہ ٹیکس بھی جرمنی کے عیسائیوں پر عاید کردہ چرچ ٹیکس کے مشابہ ہوگا اور سولہ ریاستوں میں سے بیشتر نے اصولی طور پر اس کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…