منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

غیر قانونی یورپ داخل ہونے والوں کی کشتی ڈوب گئی،65 افراد ہلاک تعلق کس ممالک سے تھا؟تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 11  مئی‬‮  2019 |

نیویارک( آن لائن )قوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے غیر قانونی طور پر یورپ داخل ہونے والے مہاجرین کی کشتی کو تیونس کے سمندر میں پیش آنے والے حادثے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیبیا سے آنے والی کشتی ڈوبنے سے کم ازکم 65 افراد جاں بحق اور متعدد لاپتہ ہیں۔تیونس کی سرکاری نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ حادثے میں کم ازکم 70 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

جو یہاں پر پیش آنے والا بدترین حادثہ ہے۔یو این ایچ سی آر کے نمائندہ خصوصی ونسنٹ کوچیٹل نے ایک بیان میں کہا کہ یہ ایک افسوس ناک اور دردناک حادثہ ہے جو اس طرف توجہ مرکوز کروا رہا ہے کہ بحیرہ روم سے گزرنے کے لیے اب بھی خطرات کا سامنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 2019 کے ابتدائی 4 ماہ کے دوران اس روٹ میں اب تک 164 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جو ماضی کے مقابلے میں کم ہے لیکن گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ ہے، جبکہ یورپ جانے والے ہر چار میں سے تین افراد بحفاظت پہنچ جاتے ہیں جبکہ ایک مہاجر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔یو این ایچ سی آر کا کہنا تھا کہ حادثے کی شکار کشتی ایک روز قبل ہی ہمسایہ ملک لیبیا سے روانہ ہوئی تھی جہاں دارالحکومت طرابلس میں گزشتہ چند ہفتوں سے حالات کشیدہ ہیں۔اپنے بیان میں اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ تیونس کی نیوی نے 16 افراد کو بچالیا ہے جن میں سے ایک کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ دیگر افراد ساحل میں اترنے کی اجازت کے منتظر ہیں۔تیونس نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ دارالحکومت تونس سے جنوب کی طرف 40 میل کے فاصلے پر سمندر میں کشتی ڈوبنے کا حادثہ پیش آیا جبکہ مچھیروں کی کشتیوں نے کئی افراد کو بچالیا۔تیونس کی وزارت دفاع سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کشتی لیبیا کے ساحل زورا سے اٹلی کے لیے روانہ ہوئی تھی تاہم نیوی نے اب تک 3 لاشوں کو نکال لیا ہے۔اقوام متحدہ کی جانب سے فوری طور پر حادثے کے شکار افراد کی شناخت کے حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا ہے کہ لیبیا سے اٹلی کے لیے روانہ ہونے والی کشتی میں سوار افراد کا تعلق کن ممالک سے تھا۔اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کے مطابق بحیرہ روم میں گزشتہ برس مجموعی طور پر ایک لاکھ 16 ہزار 959 افراد آئے، جن میں سے 2 ہزار 297 افراد جاں بحق ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…