جمعہ‬‮ ، 17 جولائی‬‮ 2026 

طلعت محمود کو مداحوں سے بچھڑے 21 برس بیت گئے

datetime 9  مئی‬‮  2019 |

ممبئی(این این آئی)اے میرے دل کہیں اور چل جیسے متعدد گیتوں کو اپنی آواز سے لازوال بنا دینے والے برصغیر کے لیجنڈ گلوکار و اداکارطلعت محمود کو مداحوں سے بچھڑے 21 برس بیت گئے۔اپنے آپ کو آوارہ بادل کہنے والے طلعت محمود 1924 میں لکھنو میں پیدا ہوئے۔

انہوں نے مرزا غالب، داغ اور جگر کی غزلوں کو اپنی آواز دی جس کے بعد برصغیر میں غزل گائیکی کے نئے دور کا آغاز ہوا۔طلعت محمود کی آواز کو درد اور کرب کا ترجمان کہا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ انکی گائیکی میں غم کی تصویر جھلکتی ہے۔دیس بدیس کے بنجارے طلعت نے بنگالی، گجراتی، سندھی اور پنجابی سمیت تیرہ زبانوں میں آٹھ سو سے زائد گیت گائے مگر راجندر کے لکھے اور سلیل چوہدری کے موسیقی ترتیب دیئے ہوئے گانے اتنا نہ مجھ سے پیار بڑھانے طلعت محمود کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔اپنی فلمی زندگی میں طلعت محمود نے سب سے زیادہ گانے دلیپ کمار کی فلموں کے لیے ہی گائے: جیسے شامِ غم کی قسم یا حسن والوں کو، اور یہ ہوا یہ رات یہ چاندنی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔طلعت محمود نے گلوکاری کے علاوہ فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، انہیں اپنی بے مثال گائیکی پر فلم فئیر اور پدما بھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا۔9مئی 1998 کو ممبئی میں طلعت محمود کا انتقال ہوا، تاہم آج بھی ان کی غزلیں ایک خاص کیفیت پیدا کردیتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…