منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عدالتی معاملات کو جلد از جلد ختم کیا جائے، پی اے سی

datetime 29  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے 20‘ 20 سالوں تک عدالتوں میں سرکاری محکموں کے کیس زیر التواءرہنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ تمام عدالتی معاملات کو جلد از جلد ختم کیا جائے۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنونیر شاہدہ اختر علی کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں نیشنل کنسٹرکشن کمپنی کے بند ہو جانے کے باوجود کمپنی کے اکاﺅنٹس آڈٹ کو فراہم نہ کرنے اور کمپنی کے حساب کتاب کرنے کیلئے مقررہ شخص کی جانب سے مراعات سے لطف اندوز ہونے بارے آڈٹ رپورٹ پر سیکرٹری نے بتایا کہ کمپنی کو بند ہوئے 20 سال ہو چکے ہیں اور کیس عدالتوں میں زیر سماعت ہیں انہون نے کہا کہ چونکہ عدالت سے کوئی فیصلہ نہیں آیا ہے اس کی وجہ سے اب کمپنی کے سینئر ہولڈرز کی جنرل میٹنگ میں فیصلہ کریں گے جس پر کمیٹی کے رکن میاں عبدالمنان نے کہا کہ ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ کمپنی گزشتہ 20 سالوں سے مردہ ہے مگر لیکویڈیٹر اس کو نوچ کر کھا رہے ہیں کمپنی کے وکلاءتنخواہ کمپنی سے لیتے ہیں مگر مخالف فریق سے مراعات لیکر کیس کو عشروں تک کھینچتے ہیں۔ انہوں نے کمپنی کے لکویڈیٹر کو فوری طور ہٹانے اور اینول جنرل میٹنگ کر کے معاملات کو حل کرنے کی ہدایت کی۔ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین متروکہ وقف املاک صدیق الفاروق نے کہا کہ مٹروکہ وقف املاک میں کرپشن‘ مقدمے بازیان‘ کیپسٹی بلڈنگ اور زائد سٹاف کے مسائل کا سامنا ہے 45 سالہ پرانا کیس آج تک عدالتوں میں گردش کر رہا ہے ملک میں ججز کی کمی کی وجہ سے مقدمات عشروں تک عدالتوں میں زیر التواءرہتے ہیں اگر پارلیمنٹ اس سلسلے میں مناسب قانون سازی کرے تو بہت بہتر ہو گا کمیٹی نے متروکہ وقف املاک کے عدالتوں میں چلنے والے مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے کی ہدایت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…