بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

ڈالر کی قدرمیں اضافہ؛ اسٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیوں کا اجلاس طلب کرلیا

datetime 29  مئی‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) زرمبادلہ کی مارکیٹوں میں امریکی ڈالر کی قدر میں مصنوعی اضافے کے خطرات کے پیش نظر فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی تجویز پرگورنراسٹیٹ بینک اشرف وتھرا نے ہفتہ 30 مئی کی شام اسٹیٹ بینک میں ایکس چینج کمپنیوں پر مشتمل اجلاس طلب کرلیا ہے۔
اس ضمن میں فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک محمد بوستان نے ’نجی ٹی وی کو بتایا کہ اجلاس میں ڈالر میںسٹہ بازی کے روک تھام اور پاکستانی روپیہ کی قدرکو مستحکم رکھنے کی مشترکہ حکمت عملی طے کی جائے گی اور ڈالر کی قدرمیں مصنوعی اضافہ کرنے والے عناصر کی نشاندہی کے لیے میکنزم ترتیب دی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ڈالر سمیت دیگر اہم غیرملکی کرنسیوں کی بلاضرورت خریداری سے گریزکریں کیونکہ اسٹیٹ بینک اور فاریکس ایسوسی ایشن کی مشترکہ حکمت عملی کے نتیجے میں ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔
جس سے انہیں بھاری نقصانات لاحق ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ فاریکس ایسوسی ایشن کی انفرادی کوششوں کے نتیجے میں جمعرات کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر گھٹ کر103.70 روپے کی سطح پر آگئی ہے۔ انہوں نے بیرون ملک تعلیمی، صحت اورسفری ضروریات کے لیے ڈالر کے طلبگاروں کو مشورہ دیا کہ وہ اوپن مارکیٹ میں مذکورہ قیمت سے زائد قیمت پر امریکی ڈالر کی خریداری نہ کریں اور زائد قیمت پر ڈالر کے فروخت کنندگان کے بارے میں فاریکس ایسوسی ایشن کے حکام کوبراہ راست معلومات فراہم کریں کیونکہ اسٹیٹ بینک اور فاریکس ایسوسی ایشن نے ڈالرکی قدر میں مصنوعی اضافہ کرنے والے عناصر کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔
ملک بوستان نے رواں سال حج کی سعادت حاصل کرنے والے حجاج کو بھی مشورہ دیا کہ وہ چند ماہ بعد اپنی ضروریات کے لیے ڈالر کی خریداری کا آغاز کریں کیونکہ ہرسال پاکستان سے 3 لاکھ حجاج اوپن مارکیٹ سے عموما جولائی اور اگست کے مہینوں میں ڈالر وریال کی خریداری کرتے ہیں اور ان مہینوں میں ڈالر وریال سمیت دیگر کرنسیوں کی قدر بھی کم ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حجاج کرام ہرسال اوپن مارکیٹ سے 60 کروڑ ڈالر کی خریداری کرتے ہیں لیکن اس بار حجاج کرام نے گھبراہٹ میں قبل ازوقت ہی ڈالر کی خریداری شروع کردی ہے جو تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مشترکہ حکمت عملی کے مثبت اثرات آئندہ ہفتے سے مرتب ہونا شروع ہوں گے اور زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں امریکی ڈالر کی قدر میں بتدریج نمایاں کمی کا سلسلہ غالب ہوجائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…