پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

اعتماد سازی کا عہد دفن،بھارت نے آر پار تجارت ختم کر دی،حکم نامہ جاری

datetime 19  اپریل‬‮  2019 |

نئی دہلی (اے این این ) بھارت کی مرکزی وزارت داخلہ نے سلام آباداوڑی اور چکاں دا باغ پونچھ سے آر پار تجارت کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے، جسکا اطلاق فوری طور پر 19اپریل سے ہوگیا ہے ۔مرکزی وزارت داخلہ کے کشمیر امورات کی خاتون ڈائریکٹر مس سلیکھا کے دستخط سے جاری احکامات میں کہا گیا ہے بھارت کی حکومت کو رپورٹیں موصول ہوئی ہیں جس کے مطابق لائن آف کنٹرول کے

آر پار تجارتی راستوں کوپاکستان میں مقیم عناصر غلط طریقوں سے استعمال کر رہے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے اس غیر قانونی کاروبار میںہتھیار، نشیلی ادویات اور غیر ملکی کرنسی شامل ہیں۔آرڈر میں بتایا گیا لہذاسخت قواعد کے نفاذ تک آر پار تجارت کے میکانزم کو معطل کیا جاتا ہے۔ حکم نامے میںکہا گیا ہے کہ نئے نظام کے ذریعے ایسا یقینی بنایا جائیگا کہ ایسی جائز تجارت ہو جو جموں و کشمیر کے عوام کیلئے فائدہ مند رہے۔مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری احکامات کے ضمن میں جن دیگر وزارتوں اور ریاستی عہدراروں کو مطلع کیا گیا ہے ان میں چیف سیکریٹری جموں وکشمیر، جوائنٹ سیکریٹری مرکزی وزارت خارجہ، جوائنٹ سیکریٹری وزارت کامرس، وزارت زراعت، وزارت دفاع، جوائنٹ سیکریٹری (مرکزی کابینی سیکرٹری)، جوائنٹ ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو، کمشنر مرکزی وزارت مال، پرنسپل سیکرٹری داخلہ، سیکریٹری /کمشنر انڈسٹریز اینڈ کامرس، ڈی جی پی ، اے ڈی جی پی (سی آئی ڈی)، کسٹوڈین (سلام آباد) اور کسٹوڈین (چکاں داں باغ) شامل ہیں۔عمر عبداللہ نے مرکزی سرکار کے فیصلے کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے اعتماد سازی کے ایک اور عہد کو دفن کردیا ہے۔ عمر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا مودی حکومت نے واجپائی کے اعتماد سازی کے ایک عہد کو دفن کردیا،لائن آف کنٹرول آر پار تجارت کا فیصلہ واجپائی حکومت کا ایک ورثہ تھا، جسکا مقصد کنٹرول لائن کے آر پار لوگوں کے درمیان رابطوں کی بحالی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ کچھ تاجروں کی طرف سے اسے غیر قانونی سرگرمیوں کے لئے استعمال کرنے کے خدشات کئی سالوں سے تھے، جس کے لئے سکینر لگانے کیلئے ریاستی حکومت نے مطالبہ کیا تھا، لیکن سکینر لگانے کے بجائے بیحد افسوسناک فیصلہ لیکر اسے بند ہی کردیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…